آبنائے ہرمز سے روزانہ کتنے جہاز گزر رہے ہیں، تیل اور گیس کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں کتنا وقت درکار ہوگا؟ عالمی ماہرین نے خبردار کر دیا
تہران کی تازہ ترین صورتحال
تہران (خصوصی رپورٹ) آبنائے ہرمز سے روزانہ کتنے جہاز گزر رہے ہیں، تیل اور گیس کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ عالمی ماہرین نے خبردار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی سفر کے دوران کانوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟
عالمی ماہرین کی تشخیص
تفصیلات کے مطابق عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نازک جنگ بندی کے باوجود تیل اور گیس کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں شدید بحران پیدا ہوا اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو V70 5G، 50 میگاپکسل ZEISS سپر ٹیلی فوٹو کیمرہ کے ساتھ پاکستان میں متعارف
آمد و رفت میں رکاوٹ
عرب میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود جب تک اس اہم سمندری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بحال اور مستحکم نہیں ہوتی، قیمتوں میں کمی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں کوچ گہری کھائی میں جا گری، 2 افراد جاں بحق
آبنائے ہرمز کی تجارتی سرگرمی
’’جنگ‘‘ کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 120 سے 140 جہاز گزرتے تھے، مگر حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف چند جہاز رہ گئی ہے۔ توانائی کے شعبے سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے۔ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ، انفراسٹرکچر پر حملے اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فراڈ کے شکار صہیب مقصود کو 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی، کرکٹر کا مریم نواز سے اظہار تشکر
توانائی ذرائع کی بحالی
ایل این جی اور دیگر توانائی ذرائع کی بحالی میں بھی 3 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض ممالک نے ذخیرہ کرنے کی کمی کے باعث تیل کی پیداوار بھی عارضی طور پر بند کر دی ہے جس سے سپلائی مزید متاثر ہوئی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے کا انتباہ
ادھر عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے باعث عالمی معیشت کی شرحِ نمو کم ہو سکتی ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن خطے میں غیر یقینی صورتِ حال اور رسد کے خطرات کی وجہ سے تیل کی قیمتیں فوری طور پر کم ہونے کا امکان نہیں۔







