ہماری ترجیح انعام نہیں، خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے، نوبل امن انعام کی نامزدگی کے سوال پر بلاول کا جواب
بلاول بھٹو زرداری کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کے پاس "پلان بی" کی گنجائش نہیں، ہمیں ہر صورت "پلان اے" یعنی امن کو ہی کامیاب بنانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے 63 ہزار کروڑ روپے سے جدید ترین ہتھیار خریدنے کی منظوری دے دی
جنگ بندی پر اتفاق
بلاول بھٹو زرداری نے برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں، ایک ماہ کی کوششوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین جانا آسان ہو گیا، ویزا پالیسی میں نرمی کر دی گئی
ایران کے ساتھ مذاکرات
بلاول بھٹو نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی پر اتقاق اور توثیق کی ہے، ایران کے10 نکاتی فارمولے کو مذاکرات کی بنیاد بنایا گیا ہے، البتہ ایران کے کچھ نکات پر اب بھی اختلاف رائے موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا غزہ مارچ، اسلام آباد میں ریڈ زون سیل
علاقے کی صورتحال
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بمباری اور خطے میں جوابی کارروائیاں رک چکی ہیں، پاکستان کو امید ہے کہ اعتماد سازی کے خلا کو پُر کیا جا سکے۔ حالیہ تنازع سے انسانی جانوں کے ضیاع اور عالمی معیشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
امن کے قیام کی اہمیت
نوبل امن انعام کی نامزدگی کے سوال اور افواہوں پر بلاول بھٹو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح انعام نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ بلاول نے زور دیا کہ عالمی برادری کے پاس "پلان بی" کی گنجائش نہیں، ہمیں ہر صورت "پلان اے" یعنی امن کو ہی کامیاب بنانا ہوگا۔








