حکومت کب تک الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق نئی پالیسی لانے کا فیصلہ کرچکی ہے؟ وفاقی وزیر نے بتادیا
وفاقی وزیر کی نئی پالیسی کا اعلان
لاہور(این این آئی) وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ نومبر میں الیکٹرک وہیکل کیلئے نئی پالیسی لے آئیں گے، یہ گاڑیاں نہ صرف پاکستان میں تیار کی جائیں بلکہ برآمد بھی کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس مظلوم لوگوں کےلئے امید کی کرن بن رہا تھا، عدالتی سٹے آرڈر افسوسناک اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے،خواجہ سعد رفیق
آٹو نمائش میں شرکت
ایکسپو میں آٹو نمائش کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر نے کہا کہ نمائش میں آکر بہت خوشی ہو رہی ہے، وینڈرز کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں جو لوکل کے ساتھ ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ مساجد پر خرچ کرتے ہیں مگر اپنے گھروں میں کھانا میسر نہیں، سابق شامی صدر بشارالاسد کی متنازعہ آڈیو ویڈیوز لیک
استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں
حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر بتدریج پابندی لگانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ استعمال شدہ امپورٹڈ گاڑیوں سے مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچا ہے، اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کرنے کی پالیسی کا غلط استعمال کیا گیا ہے، جس سے کروڑوں ڈالرز کا زرمبادلہ ضائع ہوتا ہے۔
مقامی صنعت کی بہتری
انہوں نے کہا کہ مقامی گاڑیوں تیار کرنے والوں نے حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے پورے نہیں کیے، اب حکومت ان معاہدوں پر عمل کروائے گی اور اسی سے روزگار بھی میسر آئے گا۔ سستی اور معیار والی گاڑی دینا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے تاکہ کم آمدنی والا فرد بھی اپنی سواری حاصل کر سکیں۔








