کمسن بچے کو مار کر گھر میں دفنانے والے والدین کے ظلم کی ناقابل یقین داستان

برمنگھم میں مقدمہ کی سماعت

برمنگھم (ویب ڈیسک) برطانیہ کی مقامی عدالت میں اپنے تین سالہ بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار کر گھر کے باغ میں دفنانے والے والدین کیخلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ پھاڑنے اور ویڈیو وائرل کرنیوالے دو افغان باشندے گرفتار کرلیے گئے

بچے کی حالات اور موت

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ تین سالہ بچہ ابیہ یشاراہیالہ، جسے اس کے والدین نے مبینہ طور پر جان سے مارنے کے بعد خفیہ طور پر گھر کے پچھلے حصے میں دفن کر دیا تھا، یہ بچہ شدید غذائی قلت کا شکار تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مصر میں کچے نو ڈلز کھانے سے 13سالہ حافظ قرآن بچہ انتقال کر گیا

دفن کی جگہ اور تحقیقات

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ابیہ یشاراہیالہ نامی بچے کی باقیات دسمبر 2022 میں برمنگھم کے ایک گھر کے پچھلے حصے میں باغ میں پائی گئیں، جہاں اس کے والدین، جن کے نام تائی اور نیاہمی یشاراہیالہ ہیں، پہلے رہائش پذیر تھے۔ دونوں میاں بیوی پر کوونٹری کراؤن کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی سالانہ کارکردگی عوامی اعتماد اور زمینی حقائق پر مبنی منصوبہ سازی کا عملی ثبوت ہے: عظمیٰ بخاری

بچے کی جسمانی حالت

رپورٹ کے مطابق گھر کے باغ سے برآمد ہونے والی بچے کی لاش کے معائنے کے بعد شدید غذائی قلت، ہڈیوں کے ٹوٹنے، خون اور جسمانی نشوونما میں کمی، ہڈیوں کی خرابی اور دانتوں کی بیماری کے شواہد پائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کے لیے وفاقی حکومت سے وسائل کی درخواست کردی

والدین کی بے توجہی

پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ابیہ 2019 کے آخر یا 2020 کے شروع میں ہلاک ہوا، جس کی وجہ اس کے والدین نے اس کو کھانے پینے کے لیے مناسب غذا فراہم نہیں کی۔ بچے کے والدین پر الزام ہے کہ وہ 2016 کے بعد دور دراز علاقے میں منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے خود کو اور ابیہ کو بھی بہت سادہ غذا پر رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف آئی ٹی سٹی کے آغاز سے پنجاب کی ہر بیٹی ارفع کریم بنے گی: وزیر اعلیٰ مریم نواز

علاج سے انکار

انہوں نے ایسے تمام پروسیسڈ یا وٹامن اور منرلز سے بھرپور غذائیں ترک کردیں، جن میں بچوں کا دودھ اور عام کھانے پینے جیسی صحت مند اشیاء شامل ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ بچے کے والدین نے خود کو غربت، تنہائی اور بیماری میں مبتلا کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: شام کی آخری کرنیں، ہلچل اور خاموشی کا منظر

والدین کا موقف

والدین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنے سخت عقائد کی وجہ سے ابیہ کے لیے بھی طبی امداد لینے سے انکار کیا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اس سے ان کی غفلت کا پردہ فاش ہو جائے گا۔ دوسری جانب عدالت کے روبرو والدین نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کا بچہ ابیہ عام سردی اور زکام کے باعث ہلاک ہوا، جس کا علاج وہ کچی ادرک اور لہسن سے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے تمام الزامات بے بنیاد، بھرپور جواب دیا جائے گا: ایران

لاش کی حفاظت اور دفن

یشاراہیالہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اپنے بیٹے کو سوتے ہوئے بے جان سا محسوس کیا اور اس دوران بچے کو ابتدائی طبی امداد (سی پی آر) دینے کی بھی کوشش کی، لیکن پھر یہ احساس ہوا کہ اب یہ مرچکا ہے۔ اپنے بیان میں والدین کا اصرار تھا کہ موت سے قبل بچے میں کسی بیماری کی کوئی علامت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 750 روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی 15 اپریل کو ہو گی

آٹھ دن بعد دفن کرنا

والدین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ابیہ کی لاش آٹھ دن تک گھر میں رکھی اور اس کے قریب پیرافین لیمپ جلایا تاکہ وہ ابیہ کی روح کو واپس آنے کا موقع دے سکیں۔ انہوں نے ریسکیو ادارے 999 پر کال نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ انہیں یقین تھا کہ وہ اس کی روح کو واپس لاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کا 3 سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف

ثقافتی رسومات

آٹھ دن بعد انہوں نے اپنے بچے کی لاش کو لوبان سے محفوظ کیا اور ایک خاص رسم کے مطابق اسے باغ میں ہی دفن کر دیا تاکہ بچے کی دوبارہ پیدائش ممکن ہو سکے۔ یشاراہیالہ، جو لندن میں پیدا ہوئے لیکن زیادہ تر بچپن نائجیریا میں گزارا، نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل نائجیریا کے ایبو کلچر کے مطابق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے ایس آئی کو روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات دینے کے الزام میں سنائی گئی سزا کالعدم

عدالتی کارروائیاں

پراسیکیوشن نے عدالت کو اپنے بیان میں بتایا کہ والدین کا یہ عمل غربت، تنہائی، بیماری اور شعوری فیصلوں کا نتیجہ تھا۔ پروسیکیوشن نے عدالت کو یہ بھی یاد دلایا کہ بچے کی ماں نیاہمی نے پولیس کو انٹرویو میں کہا تھا کہ قدرت کے اپنے طریقے ہیں، یہ سب قدرتی طریقہ ہے، ہمیں قدرت کے کاموں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

الزامات کا انکار

والدین کا کہنا تھا کہ ان پر بچے کی موت کا سبب بننے، بچے پر ظلم اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جیسے الزامات ہیں، جنہیں وہ مسترد کرتے ہیں۔ کیس کی سماعت جاری ہے۔

Categories: برطانیہ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...