اپنے بچپن میں اپنائی گئی کئی نقصان دہ عادات اور رویوں سے نجات حاصل کرنے اور انہیں تبدیل کرنے کے لیے آپ کو خطرہ مول لینے کی ضرورت ہے
مصنف و مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 68
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی تین ماہ سے کہہ رہے تھے کہ مجھے نظر نہیں آ رہا، یہ دو ہفتے سے کیمروں کے ذریعے دیکھ رہے تھے کہ بانی کی آنکھ دیکھنا بند ہوگئی، علیمہ خان کا الزام
زندگی کی تبدیلی کا آغاز
آپ بھی اپنے اس سلسلہ دار چکر پر ایک منطقی نظر ڈالنے کا آغاز کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کا یہ پہلو اور عادت تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے پرانے رویے اور طرزعمل پر قائم رہتے ہیں اور ماضی کے اثرات کو ترک نہیں کرتے تو پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے اس رویے اور طرزعمل میں تبدیلی سے اجتناب کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں،اس عمر میں بانی پی ٹی آئی کی 1 آنکھ کی بینائی 6/6 ہونا معجزے سے کم نہیں: اعظم نذیر تارڑ
عادات کی تبدیلی کی مشکلات
درحقیقت اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی نسبت اپنے بچپن کی عادات پر قائم رہنا زیادہ آسان ہے۔ شاید آپ اپنی ان خامیوں اور کمزوریوں کی وجہ اپنے والدین یا اپنے بچپن کے دیگر افراد جیسے اساتذہ، ہمسایوں، دادا دادی وغیرہ کو قرار دیں۔ آپ نے اپنی ان شناختوں اور علامتوں کا سب کو ذمہ دار قرار دیا ہے، اور نہایت ہی غیرمحسوس انداز میں آپ نے ان خامیوں، کمزوریوں اور نقصان دہ عادات سے چمٹنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر حملے سے قبل کن سے رابطہ کیا۔۔۔؟ جانیے
نقصانات کا سامنا
اس کا واضح فائدہ آپ کو یہ ہوا ہے کہ آپ نے ان خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ مول لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اگرچہ آپ کے "معاشرتی معمول" کا قصور ہے، آپ اسی معاشرے کا ایک حصہ ہیں اور آپ اس میں تبدیلی کے ضمن میں کسی بھی قسم کی کوشش میں ملوث نہیں ہو سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 26ویں آئینی ترمیم منظور
بدلاؤ کے طریقے
اپنے بچپن میں اپنائی گئی کئی نقصان دہ عادات اور رویوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے آپ کو خطرہ مول لینے کی ضرورت ہے۔ آپ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے عادی ہو چکے ہیں اور یہ اکثر آپ کے روزمرہ معمولات زندگی میں امدادی نظام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان سے نجات اور تبدیلی کے لیے کچھ طریقے درج ذیل ہیں:
- جہاں تک ممکن ہو سکے، اپنی شناختوں اور علامتوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں اور یہ فقرات ادا کرنے کی کوشش کریں: "آج کے بعد میں دوسرا طریقہ استعمال کروں گا۔" یا "میں کبھی اس طرح کام کیا کرتا تھا۔"
- اپنے قریبی افراد کو بتایا کریں کہ آپ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے اہم ترین شناختوں کا انتخاب کریں اور ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
- اپنے ماضی کی عادات سے نجات حاصل کرنے کے ضمن میں اہداف کا تعین کریں۔ مثلاً اگر آپ خود کو شرمیلا سمجھتے ہیں تو پھر ایک ایسے شخص کے ساتھ خود کو متعارف کروائیں جو اپنی شرم سے نجات حاصل کر چکا ہو۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








