بی بی سی نے بھی پہلگام حملے میں بھارت کی سکیورٹی ناکامی پر سوال اٹھا دیے
برطانوی نشریاتی ادارے کا سوال
لندن (ویب ڈیسک) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی پہلگام حملے میں سکیورٹی ناکامی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے
سکیورٹی کی ناکامی
بی بی سی نے لکھا ہے کہ ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ پہلگام کے مشہور سیاحتی مقام ’بیسرن‘ پر سیاحوں کی حفاظت کے لیے کوئی سکیورٹی اہلکار کیوں موجود نہیں تھا؟ جس پارک میں اتنے سیاح آتے ہوں وہاں سی سی ٹی وی کیمرہ کیوں نہیں تھا؟
یہ بھی پڑھیں: مخصوص ڈرامے بنانے کے لئے مغرب سے فنڈنگ آتی ہے: محمود اختر کا دعویٰ
مقامی لوگوں کی رائے
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلگام حملہ سکیورٹی کی خامی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے 25 سال بعد عوام کو بسنت جیسا خوبصورت تہوار منانے کا موقع فراہم کیا ہے: عظمیٰ بخاری
ماہر امور کشمیر کی تنقید
اس سے قبل ماہر امور کشمیر، سینیئر صحافی انورادھا بھسین نے کہا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ کشمیر کے عوامی مقامات پر بھارتی فوجی تعیناتی دیکھی ہے، اس لیے پہلگام میں سکیورٹی نہ ہونا باعثِ حیرت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہبازشریف اور اسحاق ڈار نجکاری میں یقین نہیں رکھتے، مفتاح اسماعیل
پولیس کی تحقیقات پر سوالات
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد حملہ آوروں کے نام کیسے پولیس کو مل گئے؟ پہلے تو سکیورٹی کو وہاں پہنچنے میں بہت وقت لگا، پھر دوسری جانب چند ہی گھنٹوں میں اُن کے پاس حملہ آوروں کی تصاویر تک موجود تھیں۔ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پورٹ بندر عباس پر حملے میں جاں بحق پاکستانی نوجوان کی میت کراچی پہنچا دی گئی
تحقیقات کی ساکھ پر شکوک
انورادھا کے مطابق اب تک کی بھارتی تحقیقات قابل اعتبار نہیں لگتیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 بھارتی سیاحوں کے قتل کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت کیے جانے والے اقدامات پر پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا ہے.








