خواجہ اعجاز سرور کی یاد میں انفارمیشن سروسز اکیڈمی اسلام آباد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
تعزیتی ریفرنس کا اہتمام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انفارمیشن سروسز اکیڈمی میں مرحوم خواجہ اعجاز سرور، سابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات، کے اعزاز میں ایک پُر وقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر انفارمیشن گروپ کے موجودہ اور سابق افسران کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافیوں نے بھی شرکت کی، جو مرحوم کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں قابلِ احترام مقام کا مظہر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور سے لنڈی کوتل تک پہنچنے میں گاڑی 4 گھنٹے تو آرام سے لگا ہی دیتی تھی، مجموعی طور پر اس کی رفتار ایک عام سے سائیکل سوارجتنی ہی ہوتی تھی۔
خراجِ تحسین کی محفل
اس تقریب میں سینئر بیوروکریٹس اور میڈیا شخصیات نے مرحوم خواجہ اعجاز سرور کی وزارتِ اطلاعات اور قوم کے لیے عظیم خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی ، لیکن اب آگے کیا ہوگا؟ سینئر صحافی نے سب کچھ واضح کردیا
سابق وفاقی سیکرٹری کا خطاب
سابق وفاقی سیکرٹری اشفاق گوندل نے اپنے خطاب میں مرحوم خواجہ سرور کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کو یاد کیا۔ انہوں نے انہیں ایک رہنما شخصیت قرار دیا جو اپنے پُرسکون مزاج، پیشہ ورانہ مہارت اور دریا دلی کے لیے جانے جاتے تھے۔ اشفاق گوندل کا کہنا تھا، “وہ ہمیشہ اپنے جونیئرز کی مدد کے لیے تیار رہتے تھے اور مشکلات کو وقار کے ساتھ حل کرتے تھے، جو آج کے افسران کے لیے ایک مثال ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے صاحبزادے پاکستان نہیں جا رہے، صحافی اظہر جاوید کا دعویٰ
پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف
سابق ایڈیشنل سیکرٹری احسن یوسف نے مرحوم سیکرٹری کی وزارتِ اطلاعات کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور انفارمیشن گروپ کے افسران کی تربیت میں ان کے کردار کو سراہا۔ “خواجہ صاحب ایک نرم دل انسان تھے جن کی کاوشوں نے ادارے پر گہرے نقوش چھوڑے."
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کا فیصلہ، ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے اس بار بڑا زبردست کام کیا ہے، سابق انگلش کرکٹر کا بیان
ذاتی تعلقات کا ذکر
سابق افسر ساجدہ اقبال نے بھی مرحوم خواجہ سرور کے ساتھ ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کا تعلق کیمبل پور (اب اٹک) سے تھا۔ انہوں نے خواجہ سرور کو اپنے ساتھیوں کے حقوق کے مضبوط حامی کے طور پر یاد کیا جو ہمیشہ مشکل وقت میں ساتھ دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: پاکستان کا جنوبی افریقا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
صحافتی دیانت داری کا اعتراف
ممتاز صحافی جاوید صدیق نے خواجہ سرور کی صحافتی دیانت داری اور حکومتی امور میں متوازن رویے کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات نے ثابت کردیا کہ میڈیا کو مینج کرکے کسی سیاستدان کی مقبولیت کم نہیں کی جا سکتی، حامد میر کا تجزیہ
ذاتی نوعیت کا پہلو
تعزیتی ریفرنس میں خواجہ اعجاز سرور کے بیچ میٹ فرحت اللہ بابر اور مرحوم کے صاحبزادے علی بلال کی موجودگی نے تقریب کو ایک ذاتی نوعیت کا پہلو دیا۔
اختتام دعا
تقریب کا اختتام دعا سے ہوا جو اشفاق گوندل نے کروائی۔ شرکاء نے مرحوم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کی بے لوث خدمات اور انسانیت دوستی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ اعجاز سرور کا ورثہ برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔








