میری یہ سوچ 1960-61ء کے دور کی ہے، ملک میں مارشل لائی دور تھا، یوتھ موومنٹ میں سینئر لوگ تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں بہت کام کیا تھا۔

مصنف کا تعارف

مصنف: رانا امیر احمد خاں

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی نے شہدا کے ورثا کی امدادی رقم 50 لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑ کردی

تاریخی پس منظر

قسط: 51
میری یہ سوچ 1960-61ء کے دور کی ہے، جب ملک میں جنرل ایوب خان کا مارشل لائی دور تھا۔ لاہور میں اْن دنوں نوجوانوں کی ایک دوسری تنظیم، مسلم یوتھ آرگنائزیشن کے نام سے جبکہ ایک تیسری تنظیم سٹوڈنٹس ری اویکننگ فورس کے نام سے کام کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر لاہور ہائی کورٹ بار نے عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مذمت کر دی

تنظیموں کا تعارف

ان تنظیموں کے کرتا دھرتا افراد میں مجھے خیال پڑتا ہے زاہد ملک صاحب نمایاں تھے۔ زاہد ملک صاحب بعد میں نامور صحافی اور چیف ایڈیٹر روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی بھی رہے۔ ایک چوتھی تنظیم جس نے مجھے متاثر کیا وہ آل پاکستان یوتھ موومنٹ کے نام سے پاکستان کے دونوں حصوں یعنی مشرقی و مغربی پاکستان میں سرگرم عمل تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے دفاتر کے 50فیصدعملے کو آن لائن کام پر منتقل کرنے کا حکم

یوتھ موومنٹ کے سرگرم کارکن

یوتھ موومنٹ میں جو آرگنائزرز تھے وہ سینئر لوگ تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں قائد اعظمؒ کی قیادت میں بطور صدر، سیکرٹری، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بہت کام کیا ہوا تھا۔ اِن دوستوں میں جنہوں نے مجھے بے حد متاثر کیا اْن میں آفتاب احمد قرشی، سید افتخار شبیر، سید محمد قاسم رضوی، ایم اے ایم صدیقی، عبدالرؤف شباب مفتی ایڈووکیٹ اور بیدار ملک، ظہور عالم شہید، ضیا الاسلام انصاری جیسے ذہین و فطین صحافی حضرات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کویت میں تراویح اجتماعات اور قطر میں افطار تقریبات پر پابندی‘ ورک فرام ہوم کا اعلان

سید افتخار شبیر کی خدمات

سید افتخار شبیر اْن دنوں سی ایس ایس کرنے کے بعد بطور ڈپٹی اکاؤنٹینٹ جنرل لاہور میں تعینات تھے۔ وہ دفتر کے بعد سہ پہر یوتھ موومنٹ آفس میں ہوتے تھے اور ملنے کے لئے آنے والے نوجوان جونیئر دوستوں کے ساتھ بہت وقت گزارتے تھے۔ اْنہوں نے اپنی قابلیت، اخلاص اور پاکستان سے بے لوث محبت کے باعث مجھے بہت متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کی رہائی کا حکم

یوتھ موومنٹ کی سرگرمیاں

درحقیقت وہ پاکستان یوتھ موومنٹ کا دل و دماغ تھے۔ لیکن وہ اپنے سینئر دوست آفتاب احمد قرشی کو برملا اپنا لیڈر کہتے تھے۔ سید افتخار شبیر آگے چل کر آڈیٹر جنرل پاکستان تعینات ہوئے۔ سید افتخار شبیر 1961ء سے 1963ء تک ویسٹ پاکستان یوتھ موومنٹ کے سیکرٹری جنرل رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران، پاکستان، سعودیہ، ترکیہ، مل کر اتحاد بنا سکتے ہیں، ایرانی سفیر رضا امیری مقدم

سٹوڈنٹ رضا کار کا آغاز

میں نے پاکستان یوتھ موومنٹ میں بطور سٹوڈنٹ رضا کار 1961ء میں ایف اے کرنے کے بعد کام شروع کیا۔ سینئرز کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ یوتھ موومنٹ کا سٹوڈنٹس سرکل آرگنائز کریں۔ میرے ساتھ گورنمنٹ کالج لاہور کے دس بارہ سٹوڈنٹس یوتھ موومنٹ میں شامل ہوئے...

یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوابی کارروائی کا خوف، بڑی تعداد میں اسرائیلی ملک چھوڑ کر جانے لگے

خواتین کی شمولیت

میری کاوشوں سے گورنمنٹ وویمن کالج لاہور (موجودہ یونیورسٹی) سے محترمہ سیدہ قمر النسا صاحبہ کی قیادت میں 5 گرلز سٹوڈنٹس فعال رہیں۔ ان میں سے کچھ نامی شخصیات میں محترمہ شکیلہ شریف شامل تھیں، جو بعد میں ایک معروف کسان لیڈر کی بیوی بنیں۔

نوٹ

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...