میری یہ سوچ 1960-61ء کے دور کی ہے، ملک میں مارشل لائی دور تھا، یوتھ موومنٹ میں سینئر لوگ تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں بہت کام کیا تھا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: بنگلورو: 7 منزلہ زیر تعمیر عمارت منہدم، کئی مزدور پھنس گئے ، 1ہلاک
تاریخی پس منظر
قسط: 51
میری یہ سوچ 1960-61ء کے دور کی ہے، جب ملک میں جنرل ایوب خان کا مارشل لائی دور تھا۔ لاہور میں اْن دنوں نوجوانوں کی ایک دوسری تنظیم، مسلم یوتھ آرگنائزیشن کے نام سے جبکہ ایک تیسری تنظیم سٹوڈنٹس ری اویکننگ فورس کے نام سے کام کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے قومی اسمبلی میں شق وار منظوری کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری
تنظیموں کا تعارف
ان تنظیموں کے کرتا دھرتا افراد میں مجھے خیال پڑتا ہے زاہد ملک صاحب نمایاں تھے۔ زاہد ملک صاحب بعد میں نامور صحافی اور چیف ایڈیٹر روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی بھی رہے۔ ایک چوتھی تنظیم جس نے مجھے متاثر کیا وہ آل پاکستان یوتھ موومنٹ کے نام سے پاکستان کے دونوں حصوں یعنی مشرقی و مغربی پاکستان میں سرگرم عمل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خفیہ یا یکطرفہ اقدام کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ پی ٹی آئی نے بانی کا علاج شروع کرنے کے حوالے سے اہم مطالبہ کر دیا۔
یوتھ موومنٹ کے سرگرم کارکن
یوتھ موومنٹ میں جو آرگنائزرز تھے وہ سینئر لوگ تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں قائد اعظمؒ کی قیادت میں بطور صدر، سیکرٹری، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بہت کام کیا ہوا تھا۔ اِن دوستوں میں جنہوں نے مجھے بے حد متاثر کیا اْن میں آفتاب احمد قرشی، سید افتخار شبیر، سید محمد قاسم رضوی، ایم اے ایم صدیقی، عبدالرؤف شباب مفتی ایڈووکیٹ اور بیدار ملک، ظہور عالم شہید، ضیا الاسلام انصاری جیسے ذہین و فطین صحافی حضرات شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ جنگیں شاید پانی کے مسئلے پر ہوں، اسحاق ڈار
سید افتخار شبیر کی خدمات
سید افتخار شبیر اْن دنوں سی ایس ایس کرنے کے بعد بطور ڈپٹی اکاؤنٹینٹ جنرل لاہور میں تعینات تھے۔ وہ دفتر کے بعد سہ پہر یوتھ موومنٹ آفس میں ہوتے تھے اور ملنے کے لئے آنے والے نوجوان جونیئر دوستوں کے ساتھ بہت وقت گزارتے تھے۔ اْنہوں نے اپنی قابلیت، اخلاص اور پاکستان سے بے لوث محبت کے باعث مجھے بہت متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم موم بتیاں ہیں۔۔۔
یوتھ موومنٹ کی سرگرمیاں
درحقیقت وہ پاکستان یوتھ موومنٹ کا دل و دماغ تھے۔ لیکن وہ اپنے سینئر دوست آفتاب احمد قرشی کو برملا اپنا لیڈر کہتے تھے۔ سید افتخار شبیر آگے چل کر آڈیٹر جنرل پاکستان تعینات ہوئے۔ سید افتخار شبیر 1961ء سے 1963ء تک ویسٹ پاکستان یوتھ موومنٹ کے سیکرٹری جنرل رہے۔
یہ بھی پڑھیں: امارات کا یمن سے اپنی تمام افواج نکالنے کا اعلان
سٹوڈنٹ رضا کار کا آغاز
میں نے پاکستان یوتھ موومنٹ میں بطور سٹوڈنٹ رضا کار 1961ء میں ایف اے کرنے کے بعد کام شروع کیا۔ سینئرز کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ یوتھ موومنٹ کا سٹوڈنٹس سرکل آرگنائز کریں۔ میرے ساتھ گورنمنٹ کالج لاہور کے دس بارہ سٹوڈنٹس یوتھ موومنٹ میں شامل ہوئے...
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: سبزی بیچنے کے لیے گاڑی پر سپیکر لگانے پر مقدمہ درج
خواتین کی شمولیت
میری کاوشوں سے گورنمنٹ وویمن کالج لاہور (موجودہ یونیورسٹی) سے محترمہ سیدہ قمر النسا صاحبہ کی قیادت میں 5 گرلز سٹوڈنٹس فعال رہیں۔ ان میں سے کچھ نامی شخصیات میں محترمہ شکیلہ شریف شامل تھیں، جو بعد میں ایک معروف کسان لیڈر کی بیوی بنیں۔
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








