بیوی میں ڈپریشن جیسے عام مرض کا خطرہ کم کرنے کا آسان طریقہ جانیں
گھر کے کام اور بیوی کی ذہنی صحت
لاہور (ویب ڈیسک) اگر آپ اپنی بیوی کو عام ترین دماغی عارضے ڈپریشن سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو گھر کے کام کرنا عادت بنالیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیجس طیارہ: 2 سال میں دوسرا حادثہ
تحقیق کی تفصیلات
یہ بات جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ Yonsei یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو شوہر گھر کے کام کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اس سے نہ صرف ان کا جسمانی وزن کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ بیوی کی دماغی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ژالہ باری اور طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری
گھریلو کاموں کے فوائد
تحقیق میں بتایا گیا کہ جب مردوں کی جانب سے کھانا پکانے، صفائی ستھرائی اور دیگر عام گھریلو کام کیے جاتے ہیں تو اس سے ان کی بیویوں میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
دوران تحقیق مشاہدات
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ شوہر کی جانب سے گھریلو کاموں میں صرف کیے جانے والے ہر گھنٹے سے بیوی میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رنویرسنگھ اور دپیکا پڈوکون کے ممبئی میں فلیٹ کا کرایہ کتنا ہے ؟ حیران کن انکشاف
خواتین کی کارکردگی اور دماغی صحت
اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بہت زیادہ گھریلو کاموں کے بوجھ سے خواتین کا شوہر سے تعلق متاثر ہوتا ہے۔ مگر اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ گھریلو کاموں کے بوجھ سے خواتین کی دماغی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس نئی تحقیق میں 7 ہزار شادی شدہ خواتین کو شامل کیا گیا اور 6 سال تک ان کی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا۔ 6 سال کے دوران ہر 2 سال بعد خواتین سے سوالنامے بھروائے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکسپو سٹی دبئی کے عالمی صحت نمائش (WHX) میں پاکستان پویلین کا افتتاح، درجنوں کمپنیوں کی شرکت
نتائج کا تجزیہ
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خواتین اوسطاً روزانہ ڈھائی گھنٹے گھریلو کام کرتے ہوئے گزارتی ہیں جبکہ مردوں میں یہ اوسط محض 35 منٹ تھی۔ محققین نے خواتین میں ڈپریشن کی سطح کا تجزیہ کیا اور پھر اس کا موازنہ شوہروں کی دماغی صحت سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم نانی والا کو عدالت سے ریلیف مل گیا
مثبت اثرات
نتائج سے ثابت ہوا کہ جب شوہر کی جانب سے گھریلو کاموں میں بیوی کی مدد کی جاتی ہے تو ان کی دماغی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان میں ڈپریشن یا چڑچڑے پن کا خطرہ 18 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہونے کا انکشاف
عدم دلچسپی کے نقصانات
اس کے مقابلے میں شوہروں کی جانب سے گھریلو کاموں میں عدم دلچسپی سے خواتین میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے اختتام
محققین نے بتایا کہ اگر شوہروں کی جانب سے گھریلو کاموں میں معاونت کی جائے تو ان کا نہ صرف بیوی سے تعلق مضبوط ہوگا بلکہ ان کی شریک حیات میں ڈپریشن کا خطرہ بھی کم ہو جائے گا۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل سوشل سائنس اینڈ میڈیسن میں شائع ہوئے۔








