ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران امریکہ اور ایران کے خفیہ رابطے، رائٹرز کا دعویٰ
ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ رابطے
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور اسرائیل تنازع کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 157000 پوائنٹس کا سنگ میل عبور
فون کالز کا سلسلہ
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان گزشتہ چند روز میں متعدد فون کالز ہو چکی ہیں جن کا مقصد خطے میں بگڑتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں سے ملاقات
دونوں ممالک کا خاموشی اختیار کرنا
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک نے اس حوالے سے کسی باضابطہ تبصرے سے گریز کیا ہے، تاہم یہ بات طے ہے کہ یہ رابطے جنگ کے آغاز کے بعد پہلا عملی سفارتی قدم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جانے سے بچنے کے لیے اسرائیلی فوجی خود کو زخمی کرنے لگے
مذاکرات کی شرائط
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں مذاکرات میں شامل ہوگا جب اسرائیل ایران پر بمباری بند کرے گا۔ دوسری جانب امریکہ نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کا عمل ترک کرے، جسے واشنگٹن "ناقابلِ قبول" قرار دیتا ہے۔
مشترکہ یورینیم افزودگی کنسورشیم کی تجویز
مذاکرات کے دوران ایک امریکی تجویز پر بھی مختصر بات چیت ہوئی جس کے مطابق خطے میں ایک مشترکہ یورینیم افزودگی کنسورشیم قائم کیا جائے جو کہ ایران سے باہر کام کرے گا، تاہم ایرانی حکام نے اس منصوبے کو تاحال قبول نہیں کیا۔








