وفاق ہمارے پیسے ادا کرے تاکہ صوبے کے حالات بہتر ہوں: میر یونس عزیز زہری
صوبے کی مالی حالت پر تبصرہ
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) پلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا ہے کہ وفاق ہمارے پیسے ادا کرے تاکہ صوبے کے حالات بہتر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پرعزم ہے بھارت کے ساتھ مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے
بجٹ کی صورتحال
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا بجٹ پیش ہو چکا ہے، بجٹ میں آمدن ناکافی ہے، اپنی آمدن کو بڑھائیں، وفاق ہماری پوری رقم ادا کرے تاکہ صوبے کے حالات بہتر بنائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 43 چوکیاں قائم کر لیں، ہر چوکی میں کتنے اہلکار تعینات کیے۔۔؟ جانیے
سرپلس بجٹ پر وضاحت
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ سرپلس ہے، اعداد و شمار میں فرق ہے، ہماری معلومات کے مطابق 52 ارب روپے سرپلس ہے، جبکہ وزیر خزانہ نے 36 ارب سرپلس کہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم نے فوری طورپر 28ویں ترمیم لانے کا مطالبہ کردیا
ترقیاتی بجٹ کا تجزیہ
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ترقیاتی مدمیں 16 ارب 15 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، صحت اور زراعت کے شعبے کے لیے کم رقم رکھی گئی ہے، بجٹ خرچ کرنے کا طریقہ کار واضح نہیں، طریقے سے خرچ ہونے چاہیے۔
تعلیمی اور صحت کے مسائل
میر یونس عزیز زہری کا مزید کہنا تھا کہ ایجوکیشن پر 1 کھرب سے زائد خرچ کرتے ہیں، مگر زرلٹ اس تناسب سے نہیں آرہا ہے، بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے، پی ایچ ای کے 11 ارب ناکافی ہیں۔








