اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں: اسحاق ڈار کا او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس سے خطاب
اسرائیلی جارحیت کا خطرہ
استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت سے خطے اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بعض مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی
او آئی سی کے اجلاس میں خطاب
استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے۔ امت مسلمہ کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ او آئی سی اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لیے مل کر اقدامات کرنا ہوں گے، کیوں کہ اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری، ایئر لفٹ ڈرونز دور دراز علاقوں میں پھنسے افراد تک کھانا اور ادویات پہنچا رہے ہیں
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی
سینیٹر اسحاق ڈار نے ''جنگ'' کے مطابق بتایا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے ہزاروں بچوں اور خواتین کی جانیں لے لی ہیں۔ انھوں نے غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی، جسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ جارحیت عالمی امن کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کس نے کروائی؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا
بھارتی جارحیت کی مذمت
نائب وزیراعظم نے بھارت کی طرف سے پاکستان پر بلاجواز جارحیت کی بھی مذمت کی، کہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنا حق استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام اقدامات کر رہا ہے، اور بھارت کا پاکستان کے حصے کا پانی روکنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
مسئلہ کشمیر کا حل
سینیٹر اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا، کہ خطے کے پائیدار امن کے لیے یہ حل ناگزیر ہے۔








