پنجابی کو صحیح سے نہیں جانتی، صرف گالیاں آتی ہیں، زارا نور عباس
اداکارہ زارا نور عباس کا پنجابی زبان میں اعتراف
لا ہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اداکارہ زارا نور عباس نے اعتراف کیا کہ وہ پنجابی زبان روانی سے نہیں بول سکتیں اور صرف گالیاں دینا جانتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران جنگ بندی اعلان کے بعد بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے ،عرب نیوز
پنجابی پروگرام میں شرکت
ڈان کے مطابق زارا نور عباس حال ہی میں ایک پنجابی پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے ہنستے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ پنجابی میں صرف گالیاں دے سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ برطرف، عہدہ سے کیوں ہٹایا گیا؟ وجہ سامنے آ گئی
ماں کا روانی سے پنجابی بولنا
پروگرام کی میزبان ان کی والدہ اسما عباس تھیں، جنہیں روانی سے پنجابی زبان بولتے ہوئے دیکھا گیا، جب کہ زارا نور عباس کو پنجابی میں ایک مکمل جملہ بھی روانی سے ادا کرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف زرداری 12 ستمبر سے چین کا 8 روزہ دورہ کریں گے
ازدواجی زندگی کا اثر
گفتگو کے دوران اداکارہ نے بتایا کہ ان کی شادی ایک اردو بولنے والے خاندان میں ہوئی ہے، جو ایک وجہ ہے کہ وہ پنجابی مناسب انداز میں نہیں بول سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان 11 مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد عدالت کے سامنے پیش ہو گئیں
پنجابی زبان کی کمزوری
ان سے سوال کیا گیا کہ آیا شادی سے پہلے، جب وہ اپنے پنجابی خاندان کے ساتھ رہتی تھیں، تب بھی انہیں پنجابی بولنے میں دشواری ہوتی تھی یا شادی کے بعد روانی متاثر ہوئی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ شادی سے پہلے بھی وہ پنجابی زبان صحیح طور پر نہیں جانتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بڑے سیاسی گھرانے کی کسی شخصیت کے کرپٹو میں 100 ملین ڈالر ڈوبنے کی افواہ پر مرزا شہزاد اکبر کا ردعمل بھی آگیا
سوشل میڈیا پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پنجابی میں صرف گالیاں دینا آتی ہیں۔ زارا نور عباس کے لہجے اور الفاظ پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ پنجابی لوگوں کو اپنی ہی زبان کا کیا کمپلیکس ہے؟
عوامی رائے
بعض صارفین کے خیال میں اپنی مادری زبان نہیں جاننا فخر کی بات نہیں ہے۔ صارف کے مطابق اس میں فخر کی کوئی بات نہیں بلکہ شرم آنی چاہیے، اداکارہ نے ساری زندگی پنجاب میں گزاری اور پھر بھی پنجابی نہیں بول سکتیں؟ یہ حد سے زیادہ فضول بات ہے اور اگر یہ سچ بھی ہے تو یہ ان کے احساسِ کمتری کو ظاہر کرتا ہے۔








