غزہ: اسرائیلی فوجی محاصرے، 66 بچے غذائی قلت سے جاں بحق
غزہ میں بچوں کی غذائی قلت
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ میں 66 بچوں کی غذائی قلت کے باعث اموات کو تشویشناک قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور آنے کے 2 ماہ بعد مجھے بطور ڈائریکٹر فیلڈ پروجیکٹس فیصل آباد تعینات کر دیا گیا، 1982ء میں گھر کا نقشہ بنوانے کی غرض سے آرکیٹیکٹ سے ملا۔
اسرائیلی محاصرہ اور اس کے اثرات
روزنامہ جنگ نے عرب میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی محاصرے بچوں کے دودھ، غذائی سپلیمنٹس اور کھانے کی اشیاء کو فلسطینی علاقے میں داخلے سے روک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بال ٹیمپرنگ کا معاملہ، شاہین، فخر اور حارث مصیبت میں پھنس گئے، ویڈیو ثبوت سامنے آ گیا
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے خلاف قحط کو بطور ہتھیار استعمال کیا جانا اور یہ جاری محاصرے ایک جنگی جرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس حالیہ جنگ کے دوران ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا
عالمی برادری کا کردار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر عالمی برادری کا خاموش رہنا شرمناک ہے، یہاں بچے بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوکر مر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے اہم ملاقات
حملوں میں شدت اور متاثرہ افراد
غزہ کی حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حملوں کی شدت میں اضافہ کردیا ہے جس میں مزید 60 افراد شہید ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
یونیسف کی تشویش
بچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی بڑھتی اموات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار
ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں 5 ہزار 119 بچے جاں بحق ہوئے، جن کی عمریں 6 ماہ سے 5 سال کے درمیان تھیں۔








