غزہ: اسرائیلی فوجی محاصرے، 66 بچے غذائی قلت سے جاں بحق
غزہ میں بچوں کی غذائی قلت
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ میں 66 بچوں کی غذائی قلت کے باعث اموات کو تشویشناک قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز سے مذاکرات ، ایک اور کمپنی سے معاملات طے پا گئے
اسرائیلی محاصرہ اور اس کے اثرات
روزنامہ جنگ نے عرب میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی محاصرے بچوں کے دودھ، غذائی سپلیمنٹس اور کھانے کی اشیاء کو فلسطینی علاقے میں داخلے سے روک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت، ایسی حرکتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے: عطاء تارڑ
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے خلاف قحط کو بطور ہتھیار استعمال کیا جانا اور یہ جاری محاصرے ایک جنگی جرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی پیدائش کے بعد کرن اشفاق نے 15 کلو وزن کس وجہ سے کم کیا؟
عالمی برادری کا کردار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر عالمی برادری کا خاموش رہنا شرمناک ہے، یہاں بچے بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوکر مر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کانگو میں کشتی میں آگ لگنے سے ہلاک افراد کی تعداد 148 ہو گئی
حملوں میں شدت اور متاثرہ افراد
غزہ کی حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حملوں کی شدت میں اضافہ کردیا ہے جس میں مزید 60 افراد شہید ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی گاڑی پرفائرنگ کی گئی اور کیمیکل پھینکا گیا : مشعال یوسفزئی
یونیسف کی تشویش
بچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی بڑھتی اموات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار
ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں 5 ہزار 119 بچے جاں بحق ہوئے، جن کی عمریں 6 ماہ سے 5 سال کے درمیان تھیں۔







