ایف بی آر کا مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف
نئے کسٹمز سسٹم کا آغاز
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔ اس کا مقصد کسٹمز نظام میں شفافیت، خودکاری اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں
نئے سسٹم کی خصوصیات
نجی ٹی وی دنیا نیوزنے اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے حوالے سے بتایاکہ درآمد و برآمد کی اشیاء کی لاگت اور نوعیت کا اندازہ اب جدید ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت اور باٹس (BOTS) کی مدد سے لگایا جائے گا۔ یہ سسٹم مشین لرننگ کے ذریعے خود کو مسلسل بہتر بناتا رہے گا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کرپشن کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمہ میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹریاسمین راشد کی ضمانت منظور
پہلی ٹیسٹنگ کے نتائج
بریفنگ دی گئی کہ نئے سسٹم کی ابتدائی ٹیسٹنگ کے دوران 92 فیصد سے زائد بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس دوران ٹیکس وصولی کے لیے 83 فیصد زائد گڈز ڈیکلریشن کی نشاندہی ہوئی اور ڈیڑھ گنا زائد کلیئرنس گرین چینل کے ذریعے مکمل کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ رحیم یار خان میں فلڈ کیمپ کا دورہ، “فکر نہ کرو، سب ٹھیک تھی وے سی، نقصان پورا کر ساں” مریم نواز کی سرائیکی میں گفتگو
کاروباری سہولیات میں اضافہ
نیا رسک مینجمنٹ سسٹم کسٹمز حکام پر دباؤ کم کرے گا، انسانی مداخلت محدود ہوگی اور کاروباری افراد کو تیز رفتار سہولت میسر آئے گی۔ اشیاء کی درجہ بندی اور لاگت کا مؤثر تخمینہ فوری لگنے سے پورا نظام شفاف اور نتیجہ خیز ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کا بیان، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے” کرارا جواب” دیدیا
وزیرِاعظم کی ہدایات
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا اور ٹیکس دہندگان کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ نے شہریوں سے بسنت حفاظت کے ساتھ منانے کی اپیل کی ہے، مریم اورنگزیب
سسٹم کی کارکردگی
وزیراعظم نے سسٹم کو مربوط اور پائیدار بنانے کی ہدایت دی اور رسک مینجمنٹ نظام کی تشکیل میں حصہ لینے والے افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔ اجلاس کو ویڈیو اینالیٹکس پر مبنی مینو فیکچرنگ سیکٹر میں ٹیکس وصولی کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس نظام سے ٹیکس کی وصولی خودکار، شفاف اور انسانی مداخلت سے پاک ہوگی، جس سے حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔ یہ نظام کم لاگت کا حامل ہے اور اس کی ابتدائی ٹیسٹنگ میں 98 فیصد افادیت نوٹ کی گئی۔
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے نظام کی افادیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے تیز رفتاری سے ملک بھر میں نافذ کرنے کی ہدایت کی۔








