میں نے ملکہ ترنم نورجہاں کی شاگرد بننے کی پیش کش کو مسترد کیا تھا، گلوکارہ حمیرا ارشد کا انکشاف
حمیرہ ارشد کا گلوکاری کا سفر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ماضی کی مقبول پلے بیک سنگر حمیرا ارشد نے انکشاف کیا ہے کہ کوئی غلط کام نہ کرنے کی یقین دہانی پر والدین نے انہیں گلوکاری کی اجازت دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد ان کی گلوکاری کی وجہ سے ناراض ہوکر گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں 2آرڈیننس،7بلز اورقائمہ کمیٹی خزانہ کی رپورٹ پیش کردی گئی
گلوکاری کا شوق اور سیکھنے کے تجربات
ایک پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے گلوکارہ نے بتایا کہ انہیں کم عمری سے ہی گلوکاری کا شوق تھا۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے ملکہ ترنم نورجہاں اور استاد نصرت فتح علی خان جیسے عظیم گلوکاروں سے سیکھا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے ملکہ ترنم نورجہاں سے نصرت فتح علی خان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی، جہاں انہوں نے استاد نصرت فتح علی خان کی شاگرد بننے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اصل میں اختیار کس کا ہے۔۔۔
ملکہ ترنم نورجہاں سے انکار کا اثر
حمیرہ ارشد کے مطابق، ملکہ ترنم نورجہاں نے انہیں اپنے شاگرد بننے کی پیش کش کی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ ان کے انکار پر ملکہ ترنم ناراض ہوئیں اور انہیں ڈانٹ پلائی، کہ اگر وہ ان کی شاگرد نہیں بنتیں تو پھر ان کے تیار کردہ گانے بھی کبھی نہیں گا سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس کی منظوری دیدی
اداکاری میں عدم دلچسپی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں متعدد فلموں اور ڈراموں میں کام کی پیش کش ہوئی، لیکن انہیں اداکاری میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے مطابق، انہیں صرف گلوکاری کا شوق تھا، اس لیے انہوں نے درجنوں فلموں کے گانے گائے۔
گلوکاری کی اجازت کیسے ملی؟
گلوکاری کی اجازت کس طرح ملی کے سوال پر، حمیرہ ارشد نے بتایا کہ ان کی گلوکاری کرنے پر ان کے والد نے گھر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد سخت مزاج تھے اور ان کی گلوکاری پر ناراض ہوئے۔ وہ اپنے والد کے مرشد سے درخواست گزاریں کہ وہ انہیں گلوکاری کی اجازت دینے کے لیے راضی کریں، اور آخر کار والد نے مرشد کے کہنے کے بعد اور ان کی کسی غلط کام نہ کرنے کی گارنٹی کے بعد اجازت دی۔








