آپ نوجوان وکیل ہیں، درخواست واپس لے لیا تو جرمانہ معاف کردیں گے، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا وکیل پر جرمانہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے اندراج مقدمہ کی درخواست پر وکیل درخواستگزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔ عدالت نے اگلے کیس کی سماعت کے دوران وکیل کو دوبارہ روسٹرم پر بلا لیا۔ عدالت نے کہا کہ آپ نوجوان وکیل ہیں، درخواست واپس لے لیا تو جرمانہ معاف کردیں گے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مہلت دیں تو اپنے موکل سے پوچھ کر بتا سکتا ہوں، عدالت نے کہا کہ مہلت نہیں ملے گی، آپ ابھی درخواست واپس نہیں لیتے تو جرمانہ برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب بھر میں سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں میں 480 ملزمان ہلاک
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سابق سسر و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ سول نوعیت کا معاملہ ہے، اس میں کرمنل کارروائی کا کون سا پہلو ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ بچوں سے ملاقات کے دوران سابق سسر و دیگر نے حملہ کیا۔ عدالتی بیلف ملاقات کے دوران موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پھینٹیاں لائیاں نے انڈیا نو پھینٹیاں لائیاں نے، چٹیاں کلائیاں وے گانے کی زبردست پیروڈی
عدالتی سوالات
جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا بیلف نے کرمنل کارروائی کی شکایت درج کرائی؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بیلف نے فیملی کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بیلف کی جگہ کوئی اور شخص کس طرح مقدمہ درج کرا سکتا ہے؟ عدالت نے کہا کہ آپ بیلف کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہے ہیں، اس پر تو بھاری جرمانہ بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہتے دریائے نیل سے آس پاس کی پہاڑیاں اور مندر دلکش منظر پیش کر رہے تھے، مقامی مصری اور غیر ملکی سیاح مچھلیاں پکڑنے کا شوق بھی پورا کر رہے تھے
درخواست کا فیصلہ
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے، بیلف اس معاملے میں گواہ ہے۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا، عدالت نے کہا کہ 7 روز میں جرمانہ ایدھی فاؤنڈیشن میں جمع کراکے رسید پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز ، 8 خوارج جہنم واصل ، 2 گرفتار
مزید سماعت
عدالت نے اگلے کیس کی سماعت کے دوران وکیل کو دوبارہ روسٹرم پر بلا لیا۔ عدالت نے کہا کہ آپ نوجوان وکیل ہیں، درخواست واپس لے لیا تو جرمانہ معاف کردیں گے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مہلت دیں تو اپنے موکل سے پوچھ کر بتا سکتا ہوں، عدالت نے کہا کہ مہلت نہیں ملے گی، آپ ابھی درخواست واپس نہیں لیتے تو جرمانہ برقرار رہے گا۔
جرمانے کا مقصد
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ غیرضروری مقدمہ بازی سے عدالتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جرمانہ اس لئے عائد کیا جاتا ہے تاکہ غیرضروری درخواستوں کو روکا جا سکے۔ وکیل درخواست گزار نے درخواست واپس لے لی، عدالت نے جرمانہ معاف کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔








