اسرائیل کا حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان
اسرائیل کا فضائی حملہ، حماس کے ترجمان کی ہلاکت
تل ابیب/ غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان کو شہید کر دیا ہے۔ یہ تقریباً دو سالہ جنگ میں گروپ کی سینئر قیادت میں تازہ ترین ہلاکت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دلوں کا رشتہ اب بھی زندہ ہے
اسرائیلی وزیرِ دفاع کا بیان
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا "حماس کا دہشت گرد ترجمان ابو عبیدہ غزہ میں مارا گیا"۔ اس سے قبل وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی کہا تھا کہ انہیں ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب حماس نے ابو عبیدہ کی شہادت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو نیوکلیئر ریاست کے طورپر نہیں دیکھنا چاہتا، امریکی سینیٹر کی زبان پھسل گئی
غزہ میں جاری لڑائی کی صورتحال
العربیہ نے خبر ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے 23 ماہ کی تباہ کن لڑائی کے دوران حماس کی قیادت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس مسلح گروپ کو ختم کرنے اور ان یرغمالیوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں فلسطینی جنگجوؤں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں پکڑا تھا، جس کے نتیجے میں یہ جنگ شروع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان رہنما کی 4 ہزار خود کش حملہ آور بھیجنے کی دھمکی ہمارے مؤقف کی سچائی کو ثابت کرتی ہے، دفتر خارجہ
غزہ کی شہری حالت اور انخلا کی تنبیہ
اسرائیلی فورسز غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کر رہی ہیں، جو فلسطینی علاقے کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے پر بمباری تیز کر دی گئی ہے اور شہریوں کو ممکنہ انخلا کی تنبیہ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
ابو عبیدہ کی شناخت اور فوجی حیثیت
اسرائیلی فوج کے مطابق ابو عبیدہ کا اصل نام ہدیفہ الکحلوت تھا۔ جنگ کے آغاز سے وہ درجنوں ٹی وی انٹرویوز دے چکے تھے، ہمیشہ فوجی وردی اور چہرے پر سرخ چیک والا رومال ڈالے نظر آتے تھے، اور آڈیو پیغامات، پریس ریلیز اور سوشل میڈیا پوسٹ جاری کرتے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اقتدار بدر ہونے کے بعد سے اب تک مسلسل غلط پتّے چل رہے ہیں: عرفان صدیقی کھل کر بول پڑے
غزہ میں انسانی بحران
اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق اس وقت غزہ شہر اور اس کے اطراف تقریباً دس لاکھ لوگ مقیم ہیں، جہاں قحط کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیلی ویژن پشاور کی تاریخی لائبریری ختم کر کے اہم شخصیت کے مشیر کا دفتر بنانے کا فیصلہ
حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اتوار کو اسرائیلی حملوں اور فائرنگ سے کم از کم 24 افراد مارے گئے، جن میں سے 15 امدادی تقسیم مراکز کے قریب تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت کو سفارتکاری کا خیال آہی گیا، 7 ٹیمیں تشکیل
حماس کے دیگر رہنماؤں پر حملے
ابو عبیدہ کی شہادت حماس کے کئی دیگر رہنماؤں پر حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ان میں گروپ کے سربراہ یحییٰ سنوار، سیاسی چیف اسماعیل ہنیہ، اور مسلح ونگ کے سربراہ محمد ضیف سمیت دیگر کمانڈر اور سیاسی شخصیات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کھلبلی: ڈاکٹر ذاکر نائیک کی پاکستان آمد
اسرائیلی اعداد و شمار
حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1219 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا، جن میں سے 47 اب بھی غزہ میں ہیں اور خیال ہے کہ ان میں تقریباً 20 زندہ ہیں۔
جوابی کارروائی میں ہونے والے نقصانات
اسرائیل کی جوابی کارروائی میں اب تک کم از کم 63,459 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں。








