ملک بھر میں بجلی کے میٹرز تبدیل کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا نیا منصوبہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تھری فیز میٹرز کو جدید اے ایم آئی سمارٹ میٹرز سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز کی سفارتی اڑان
بجلی چوری کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل ’’ہم نیوز‘‘ کے مطابق وزارت توانائی نے بجلی چوری پر قابو پانے اور زائد بلنگ کو روکنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔ یہ منصوبہ مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لیبارٹری میں جلد کی تیاری: ایسی تحقیق جو آپ کو بڑھاپے میں بھی جوان رکھ سکتی ہے
پہلا مرحلہ
حکام نے کہا کہ ابتدائی طور پر بجلی کے 3 لاکھ 50 ہزار میٹرز تبدیل کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن دسمبر 2026 رکھی گئی ہے، جس کے بعد پورے ملک میں سمارٹ میٹرز کا استعمال لازمی ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے کہنے پر ایران پر حملہ موخر کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ
باضابطہ ہدایات جاری
انہوں نے کہا کہ میٹرز کی تبدیلی کے حوالے سے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی نے تحریک انصاف میں اختلافات کا نوٹس لے لیا، اہم ہدایات جاری
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی شمولیت
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) 3 لاکھ 50 ہزار میٹرز تبدیل کرے گی، اور یہ تنصیب باضابطہ میٹر ریپلیسمنٹ آرڈر کے تحت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کا ’ناگن ڈانس‘ وائرل
سمارٹ میٹرز کے فوائد
حکام کا کہنا ہے کہ سمارٹ میٹرز کے استعمال سے بجلی کے استعمال کی درست مانیٹرنگ اور بلنگ ممکن ہو سکے گی، اور اس سے بجلی چوری میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اخراجات کا تخمینہ
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کو بڑے پیمانے پر تنصیب کے باعث اربوں روپے کے اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔








