علی امین گنڈاپور کی گرفتاری: وزارت داخلہ کے ذرائع کی وضاحت
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت داخلہ کے ذرائع نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے متعلق گرفتاری اور حراست میں لئے جانے کی خبروں کو بے بنیاد افواہیں قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کومل عزیز کس خوف کی وجہ سے شادی نہیں کررہیں؟ اداکارہ کے انکشاف نے مداحوں کو چونکا دیا
حقیقت کا منظر
روزنامہ جنگ نے ذرائع وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 اکتوبر کو عدالت آیا تو شدید بخار تھا، ریکور کرنے میں لمبا وقت لگا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
گولی چلانے کی خبروں کی حقیقت
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی اسلام آباد میں گرفتاری سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے گولی چلانے کی خبریں بالکل بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قیام امن کے لیے امریکی صدر کی کوششیں قابل تعریف، پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، سعودی ولی عہد
پولیس اور رینجرز کی کارروائی
ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے فائرنگ کئے جانے کا پی ٹی آئی کا پراپیگنڈا بے بنیاد ہے، پشاور سے لے کر اسلام آباد تک کہیں بھی کسی قسم کی کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے بھارت کو اپنا بہترین فرمانبردار ملک قرار دیدیا
کے پی کے ہاوس کی سیکیورٹی
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ رینجرز کی طرف سے کے پی کے ہاوس کو حصار میں لینے کی خبریں بے بنیاد ہیں، آرٹیکل 245 کے تحت کل رات سے سکیورٹی فورسز اسلام آباد اور گرد و نواح میں تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس؛ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر نامزد
سیاسی مقاصد کیلئے جھوٹی خبریں
پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل مستعدی سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، چند عناصر مذموم سیاسی مقاصد کیلئے سکیورٹی فورسز سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر دوستی محبت میں تبدیل، امریکی خاتون نے جھنگ کے نوجوان سے شادی کرلی
متضاد اطلاعات
اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو حراست میں لئے جانے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں، سرکاری ذرائع گرفتاری کی خبر کو غلط قرار دیتے رہے ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے تنازعہ
دوسری طرف پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری خیبر پختونخوا اسلام آباد پہنچی تو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔








