بگرام ایئربیس کے لیے اگلے 20 سال جنگ لڑنے کو تیار ہیں، افغان حکومت کا ٹرمپ کی دھمکیوں پر جواب
طالبان کا بگرام ایئربیس کے حوالے سے سخت موقف
کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکی مطالبے پر بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں دے گی۔ اگر امریکا دوبارہ اڈہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو طالبان کے مطابق وہ اگلے بیس سال لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت عالمی سطح پر اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش ضرور کرے گا، ہمیں اس خطرے کے پیشِ نظر مکمل چوکس اور تیار رہنا ہوگا: منیر اکرم
افغان حکومت کا جواب
افغان وزارت دفاع کے وزیر محمد یعقوب مجاہد نے کہا کہ اگر امریکہ بگرام واپس چاہتا ہے تو "ہم اس کے خلاف اگلے 20 سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں"۔
یہ بھی پڑھیں: اگر اچکزئی کے پاس مینڈیٹ ہے تو ضرور مذاکرات کریں لیکن اگر علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس مذاکرات کے اختیارات موجود نہیں تو ضرور کوئی میسج آیا ہوگا، بیرسٹر گوہر
سرزمین کے دفاع کا عزم
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نائب ملا تاجمیر جواد اور وزارتِ خارجہ کے نمائندے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کبھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی تسلط برداشت نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو نادہندگان کی باری آ گئی۔۔۔پنجاب حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا
امریکی دھمکیاں اور افغان حکام کا ردعمل
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدلے میں "سنگین نتائج" کی دھمکیوں کے بعد آیا، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر بگرام ایئربیس واپس نہ ملا تو واشنگٹن کارروائی کر سکتا ہے۔ بعد ازاں افغان چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے بھی کہا کہ "افغانستان کی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کے حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ ممکن نہیں"۔
بگرام ایئربیس کی اہمیت
ماہرین کا کہنا ہے کہ بگرام ایک بڑا اسٹریٹجک فوجی اڈہ ہے جسے دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس میں ہزاروں فوجی اور جدید دفاعی نظام درکار ہوں گے، اور ایسا اقدام ایک نئی جنگی مہم کا سبب بن سکتا ہے۔ 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بگرام خالی ہوا تھا اور اس وقت کی پیش رفت نے پورے خطے کی سیاسی و عسکری صورتِ حال بدل دی تھی۔








