کیا فاطمہ ثنا نے بھارتی کھلاڑی کے پاؤں چھوئے تھے؟ تصویر کی حقیقت سامنے آ گئی
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان کی وائرل تصویر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا بھارت سے ہار کے بعد مخالف ٹیم کی کھلاڑی کے پاؤں چھو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چارے سے لدے جلتے ٹرک کو پٹرول پمپ سے ہٹاکر جانیں بچانے والے شہری کے لیے سعودی حکومت کا ایوارڈ کا اعلان
تصویر کا پس منظر
بھارتی کھلاڑی سمرتی مندھانا کے ساتھ فاطمہ ثنا کی مذکورہ تصویر کو مختصر پیغامات کی سائٹ ایکس سمیت فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے میں اموات کی تعداد 27 ہوگئی
فیکٹ چیک کا انکشاف
تاہم فیکٹ چیک سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہ تصویر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس کا کسی حقیقی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لودھراں میں کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق، وزیراعلیٰ مریم نواز کا شدید غم و غصہ کا اظہار، ڈی سی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم
آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ
یہ تصویر 5 اکتوبر کو ہونے والے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان بمقابلہ بھارت میچ سے منسوب کی جارہی ہے۔ 6 اکتوبر کو ایک بھارتی صارف نے یہ تصویر ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے بھارت سے شکست کے بعد سمرتی مندھانا کے قدم چھوئے‘‘۔
Pakistan captain Fatima Sana Touch Feet of Smriti Mandhana after her loss vs india in worldcup pic.twitter.com/AGClmA6xeU
— गुड़िया (अनीता) (@DrGudiyaa) October 6, 2025
یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی خان نے خیبر پختون خوا میں حکومت کی تبدیلی کی مخالفت کر دی
دستیاب فوٹیجز کی جانچ
تاہم میچ کے دوران ایسا کوئی منظر پیش نہیں آیا تھا نہ ہی اس دن کے میچ کی فوٹیجز میں ایسا کوئی منظر دکھائی دیتا ہے۔ فیکٹ چیک کی جانب سے جب اس تصویر کی تصدیق کےلیے ڈیجیٹل میڈیا فارنزک ٹولز استعمال کیے گئے تو ان ٹولز نے بھی تصویر کے جعلی ہونے کی نشاندہی کی ہے۔
نتیجہ
مزید جانچ کے لیے 5 اکتوبر کے پورے میچ اور اس کی کمنٹری کا جائزہ بھی لیا گیا مگر کسی بھی لمحے فاطمہ ثنا کے سمرتی مندھانا کے قدم چھونے یا جھکنے کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے اور کسی بھی حقیقی لمحے کی عکاسی نہیں کرتی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ غلط ہے۔








