پنجاب میں فضائی آلودگی شدت اختیار کرنے لگی، کھلی فضا میں سانس لینا صحت کے لیے خطرہ بن گیا
فضائی آلودگی کی شدت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر وسطی علاقوں میں فضائی آلودگی شدت اختیار کرنے لگی، کھلی فضا میں سانس لینا صحت کے لیے خطرہ بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی کونسل ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کیلئے اپنا کردار ادا کرے: پاکستان
ایئر کوالٹی انڈیکس کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور کے علاقے راوی روڈ میں صبح کے اوقات میں ائیر کوالٹی انڈیکس 810 تک پہنچ گیا، شہر میں اوسط اے کیو آئی 367 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا۔ گوجرانوالا میں 627 اور فیصل آباد میں اے کیو آئی 434 ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن کا غزہ کی بحالی کیلئے 15 ارب روپے پر مشتمل ’’ری بلڈ غزہ‘‘ پروگرام کا آغاز
ماہرین کی ہدایت
ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے جبکہ محکمہ تحفظ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اسموگ میں اضافے کی بڑی وجہ ہوا کے کم دباؤ والے زونز اور سرحد پار سے آنے والی آلودگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینیوں نے کرنا ہے، سپین نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے انکار کردیا۔
محکمہ تحفظ ماحولیات کی وضاحت
ترجمان محکمہ تحفظ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بھارتی پنجاب سے آلودہ ہواؤں کی آمد کے باعث لاہور اور وسطی پنجاب کی فضا میں اضافے کا امکان ہے، اسموگ کے اثرات لاہور، قصور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عائشہ خان کی آخری رسومات خاموشی سے ادا، کوئی شوبز شخصیت شریک نہ ہوسکی
فضائی نمی اور آلودگی
ترجمان کے مطابق رات اور صبح کے اوقات میں فضا میں نمی 95 سے 100 فیصد تک پہنچنے سے آلودگی میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، بھارتی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں دھوئیں اور گرد آلود ذرات کے باعث لاہور کی فضا مسلسل متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں رواں سال کے آغاز سے سولر پینلز کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ
زرعی اقدامات
زرعی علاقوں میں منجی نہ جلانے کے لیے مساجد اور دیہات میں اعلانات کیے جا رہے ہیں، نمبر داروں اور کسانوں کو آگاہی بھی دی جا رہی ہے۔
سموگ کے خلاف اقدامات
لاہور میں زیادہ اے کیو آئی والے ٹارگٹڈ علاقوں میں سموگ گنز بارش برسا رہی ہیں جو فوری سموگ کے حل کا کام کر رہی ہیں، آئندہ 48 گھنٹوں میں فضا میں سموگ کی شدت میں کمی کا امکان ہے。








