سینیٹ کمیٹی برائے ریلویز: وفاقی وزیر حنیف عباسی کی مسلسل غیر حاضری پر شدید برہمی، رویہ غیر سنجیدہ قرار دیا
اجلاس میں وفاقی وزیر کی غیر حاضری پر برہمی
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز نے وفاق وزیر ریلوے حنیف عباسی کی اجلاس میں مسلسل غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان لڑکی ماں کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہوکر موبائل ٹاور پر چڑھ گئی
خط لکھنے کا فیصلہ
چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلویز جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت اجلاس میں کمیٹی نے وزیراعظم کو اس سلسلہ میں خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے.
یہ بھی پڑھیں: اولمپئن خواجہ جنید ہاکی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقرر
محکمہ ریلوے کا غیر سنجیدہ رویہ
جام سیف اللہ خان نے کہا کہ محکمہ ریلوے اور وفاقی وزیر کا رویہ بالکل غیر سنجیدہ ہے اور وزارت ریلوے پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہی ۔
یہ بھی پڑھیں: اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں عوامی مسائل کا علم ہونا چاہیے، جج سپریم کورٹ
وفاقی وزیر پر کڑی تنقید
اجلاس کے دوران حکومتی رکن سینیٹ ناصر بٹ نے بھی وفاقی وزیر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حنیف عباسی پارلیمانی کمیٹی کو سنجیدہ نہیں لیتے اور ان کی مسلسل غیر حاضری کسی صورت قابلِ قبول نہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے 5 جنگی طیارے تباہ کردئیے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ
زمین کے تنازعات کا معاملہ
سینیٹر شہادت اعوان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ محکمہ ریلوے کی 3 ہزار 598 ایکڑ زمین سے متعلق 2018 کی ایف آئی آر، آڈٹ رپورٹ اور سرکاری ریکارڈ میں واضح تضادات موجود ہیں. زمین کی سرکاری مالیت 4 ارب 46 کروڑ روپے، جب کہ مارکیٹ ویلیو 80 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔محکمہ ریلوے نے کمیٹی کو غلط ریکارڈ فراہم کیا، جس پر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا گیا ہے.
یہ بھی پڑھیں: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
قبضے کی شکایات اور کرپشن
ان کا کہناتھا کہ ریلوے زمینوں پر بڑے پیمانے پر قبضے کے کیسز ملک گیر سطح پر موجود ہیں اور ریلوے کے اپنے افسران بھی ان کرپشن کے معاملات میں ملوث ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی سابق ایئر بیس پر آتشزدگی کے واقعے میں 3 افراد ہلاک
موثر کارروائی کی ضرورت
سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جب محکمہ ریلوے خود ہی کہتا ہے کہ ایسا کچھ موجود نہیں، تو پھر کارروائی کس بنیاد پر ہوگی؟
ریلوے زمینوں پر قبضوں کی تحقیقات
اجلاس میں موجودہ آئی جی ریلویز کی جانب سے بہتر جوابات دینے پر کمیٹی نے ان کا شکریہ ادا کیا، تاہم ارکان نے واضح کیا کہ ریلوے کی زمینوں پر قبضوں اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائے گا.








