پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل راولپنڈی سے عمران خان کی منتقلی کی خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دےدیا
پنجاب حکومت کی سختی سے تردید
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف کو کسی اور مقام پر منتقل کیے جانے کی خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ
وزیر اطلاعات کا بیان
ہم نیوز کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں پھیلائی جانے والی یہ باتیں حقائق پر مبنی نہیں، بانی پی ٹی آئی کو نہ تو کہیں منتقل کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری کون تھے؟ کس کے بھائی تھے؟
جیل کی صورتحال
بانی پی ٹی آئی جیل میں بالکل محفوظ ہیں اور انہیں جیل قوانین کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ قیدی ہونے کے باعث ان تک رسائی محدود ہے اور انہیں صرف اہل خانہ اور وکلا ہی سے ملاقات کرنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کوئی خصوصی ریلیف یا اضافی رعایت نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا وفد پاکستان کے مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ذرائع
سیاسی ملاقاتیں اور حکومت کی نگرانی
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیاسی ملاقاتیں بھی کرتے ہیں اور مختلف مواقع پر احتجاج اور ہنگاموں سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ حکومت پنجاب کسی بھی قیدی کیلئے قانون سے بالاتر سہولت کی قائل نہیں۔
قانون کی برابری
قانون سب کیلئے برابر ہے اور بانی پی ٹی آئی بھی ایک قیدی ہی کی حیثیت رکھتے ہیں، افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔








