بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ ’کسی اتحاد‘ میں شمولیت ممکن ہے: بنگلہ دیش
ڈھاکہ کی تزویراتی ممکنات
ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلہ دیش کے امور خارجہ کے مشیر محمد توحید حسین نے بیان دیا ہے کہ بنگلہ دیش کے لیے تزویراتی طور پر ممکن ہے کہ وہ بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ کسی علاقائی گروپ میں شامل ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی زیر صدارت اجلاس میں حکومتی یقین دہانیوں پر عدم اعتماد کا اظہار
بھارت کے بغیر گروپ بنانا
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، ایک صحافی کے سوال کے جواب میں توحید حسین نے کہا کہ یہ بنگلہ دیش کے لیے ممکن ہے، لیکن نیپال یا بھوٹان کے لیے بھارت کو چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ گروہ بنانا ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: سابق امریکی سفارتکار بھارتی میڈیا کے طرزِ عمل پر کھل کر بول پڑے
اسحاق ڈار کی رائے
توحید حسین کے یہ ریمارکس حالیہ اسلام آباد کنکلیو میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ق ڈار کے بیان کے جواب میں سمجھے جا رہے ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، چین اور پاکستان پر مشتمل ایک سہ فریقی اقدام شروع ہو چکا ہے اور اس میں خطے کے اندر اور باہر کے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک کے ساتھ 2ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاہدہ جلد ہونے کا امکان
بنگلہ دیشی میڈیا کا موقف
بنگلہ دیشی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ توحید حسین نے کہا کہ اسحاق ڈار نے کچھ کہا ہے اور شاید کسی وقت اس میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مصنوعی بارش برسانے کا فیصلہ کرلیا گیا
وزیر خارجہ کا دورہ بنگلہ دیش
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رواں سال اگست میں وزیر خارجہ ڈار نے 13 سال بعد پہلی بار بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے بھی حالیہ مہینوں میں کئی خوشگوار ملاقاتیں کی ہیں۔
اسلام آباد اور ڈھاکہ کے تعلقات
بنگلہ دیش میں گزشتہ سال اگست میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان فاصلے کم ہوئے ہیں، جبکہ سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کو پناہ دینے والا دہلی نسبتاً دور ہوا ہے.








