بلوچستان میں حالات غلط سمت میں جا رہے ہیں
بے روزگاری: سب سے بڑا مسئلہ
لاہور (طیبہ بخاری سے) ’’بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ، بلوچستان میں حالات غلط سمت میں جا رہے ہیں‘‘ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (IPOR) نے عوامی رائے سروے کے نتائج جاری کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلیمان سیاست میں آنا چاہیں تو انہیں کسی نے منع نہیں کیا، عمر ایوب
سروے کی تفصیلات

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (IPOR) نے اپنے تازہ ترین بلوچستان عوامی رائے سروے کے نتائج جاری کر دیئے ہیں، جن میں صوبے میں حکمرانی کی کارکردگی، عوامی خدمات اور درپیش اہم چیلنجز کے بارے میں شہریوں کے تاثرات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا کھیل بے نقاب، بھارتی عوام جاگ اُٹھی، استعفوں کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، خاتون نے کھری کھری سنا دیں : ویڈیو دیکھیں
سروے کی مدت اور طریقہ کار

یہ سروے 29 نومبر سے 22 دسمبر 2025 کے دوران کیا گیا اور بلوچستان بھر میں ووٹ دینے کی عمر کے 5,220 شہریوں سے بالمشافہ، آمنے سامنے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ اس مطالعے میں شہری اور دیہی دونوں آبادیوں کو شامل کیا گیا اور صوبائی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے تین مرحلہ جاتی احتمالی نمونہ (Three-stage Probability Sampling) اختیار کیا گیا۔ ڈیٹا کمپیوٹر اسسٹڈ پرسنل انٹرویونگ (CAPI) کے ذریعے جمع کیا گیا۔ سروے میں 95 فیصد اعتماد کی سطح پر غلطی کا تناسب 1.55 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراکز صحت کی ری ویمپنگ کیلیے 31دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر، بوسیدہ عمارتیں چمچماتے کلینکس میں تبدیل ہونگی:مریم نواز
سروے کے اہم نتائج

سروے کے اہم نتائج کے مطابق 69 فیصد عوام کا ماننا ہے کہ بلوچستان میں حالات غلط سمت میں جا رہے ہیں، جبکہ صرف 13 فیصد افراد کے نزدیک صوبہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ 45 فیصد کے مطابق بے روزگاری بلوچستان کا درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس کے بعد امن و امان 11 فیصد، پینے کا پانی 7 فیصد اور تعلیم 6 فیصد ہیں。
یہ بھی پڑھیں: مولا علیٰؓ کا فرمان ہے”طاقت کے نشے میں انسان آزمایا ہی نہیں جاتا بلکہ ننگا ہو جاتا ہے“ نوجوان نسل سچ بولنے لگی ہے اور سچ جان کر چپ رہنے کو تیار نہیں
تعلیم اور صحت کے مسائل

سرکاری سکولوں کی تعلیم کے بارے میں عوامی رائے منقسم ہے؛ 47 فیصد نے اسے اچھا جبکہ 47 فیصد نے برا قرار دیا، جبکہ 6 فیصد نے جواب نہیں دیا۔ سرکاری ہسپتالوں میں سب سے بڑے مسائل ادویات کی کمی 35 فیصد اور ڈاکٹروں کی قلت 32 فیصد بتائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پانی کی سطح بلند ہونے پر تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے
بنیادی صحت کی سہولیات
44 فیصد عوام کے مطابق ان کے علاقے میں سرکاری بنیادی صحت مرکز (بی ایچ یو) فعال ہے، جبکہ 48 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کوئی فعال بی ایچ یو موجود نہیں، اور 8 فیصد نے اس سوال پر کوئی جواب نہیں دیا۔ صحت کارڈ کے حوالے سے 17 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا، جبکہ 51 فیصد عوام کا کہنا ہے کہ وہ اس سکیم سے آگاہ ہی نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو کراچی آمد پر برگر بھی کھلائیں گے :میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی
گزشتہ 5 وزرائے اعلیٰ میں سے 26 فیصد عوام کے مطابق عبد المالک بلوچ بہترین کارکردگی کے حامل وزیر اعلیٰ ہیں، اس کے بعد سرفراز بگٹی 21 فیصد، جام کمال خان 18 فیصد، دیگر سابق وزرائے اعلیٰ 21 فیصد جبکہ 14 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ود ہولڈنگ ٹیکس کو غیر شرعی قرار دینے پر اسلامی نظریاتی کونسل نے تصحیح نامہ جاری کر دیا۔
سیاسی نمائندگی کی رائے
سیاسی نمائندگی کے حوالے سے 11 فیصد عوام کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز (PPPP) بلوچستان کے مفادات کی بہترین نمائندگی کرتی ہے۔ منتخب نمائندوں (ایم پی اے/ایم این اے) سے عوام کا اطمینان کم رہا، جہاں صرف 7 فیصد بہت مطمئن اور 19 فیصد کسی حد تک مطمئن ہیں، جبکہ 20 فیصد مطمئن نہیں اور 43 فیصد بالکل مطمئن نہیں؛ 11 فیصد نے جواب نہیں دیا۔
IPOR کا مشن
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (IPOR) نے کہا ہے کہ ہم ملک کو درپیش اہم پالیسی اور سیاسی مسائل پر عوامی آراء کے حوالے سے ڈیٹا پر مبنی تجزیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارا مشن باخبر عوامی مکالمے کو فروغ دینا اور پالیسی سازوں کو قابلِ اعتماد ڈیٹا کے ذریعے فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔








