صدر ٹرمپ کا ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
صدر ٹرمپ کی نئی پابندیاں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر نے ایران پر معاشی حملہ کرتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر آمادگی ظاہر کردی، عمان کا دعویٰ
تجارتی ٹیرف کا اعلان
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا۔ ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے کہا کہ اضافی ٹیرف کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق فاسٹ بولر بریٹ لی آسٹریلین کرکٹ ہال آف فیم میں شامل
فیصلے کی تفصیلات
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید وضاحت کی کہ یہ اضافی ٹیرف فوری طور پر نافذ ہوگا اور اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب کمیٹی نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کو کلیئر قرار دیدیا
عالمی موقف اور ایرانی ردعمل
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ بار بار ایران میں مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور خبردار کر چکے ہیں کہ ان کے پاس انتہائی سخت آپشنز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 10 دسمبر تک حج درخواستیں جمع کرانے والے تمام 79 ہزار عازمین کامیاب قرار
فوجی کارروائی کی ممکنہ دھمکی
ان آپشنز میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی بھی شامل ہے، امریکی انتظامیہ کے مطابق وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا خریدے گا ترے شہر کا بازار مجھے۔۔۔
ایران کی حکومت کا جواب
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت امریکا کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطے بدستور قائم ہیں۔
مظاہرے اور انسانی حقوق کی صورتحال
عباس عراقچی نے مزید کہا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ انتباہ کہ اگر احتجاج خونریز ہوا تو فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے، دراصل "دہشت گرد عناصر" کو اکسانے کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور امریکی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں اب تک 490 افراد ہلاک ہو چکے ہیں.








