سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے تھا، ہیجانی کیفیت طاری تھی، تیز تیز قدم اٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اٹھے ”جلدی کرو جلدی کرو، گھر سے باہر نکلو“
تحریر کی تفصیل
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 29
یہ بھی پڑھیں: سعودی حکومت نے شراب پر عائد پابندی ختم کرنے کی خبروں پر رد عمل جاری کر دیا
پہلا منظر
ایک انجانے خوف میں جکڑے لیکن بظاہر اِس پُر سکون گاؤں میں 20 ستمبر 1947ء کی شام کے 4 بچ چکے تھے۔ میرے والد صاحب چودھری ہاشم علی تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اُٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں شناختی کارڈ کی بنیاد پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹس سے متعلق پراونشل موٹر وہیکل ترمیمی ایکٹ 2024 نافذ
خطرے کا احساس
”جلدی کرو جلدی کرو…… گھر سے باہر نکلو“…… ”معاملہ کیا ہے“ والدہ صاحبہ عمر بی بی نے استفسار کیا؟ ”یہ سوال و جواب کا وقت نہیں ہے۔“ چوہدری صاحب کا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا۔ اُن پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کی شہادت، ایران نے امریکی اڈوں پر نئے حملے شروع کردیئے۔
خاندان کی تیاری
والدہ صاحبہ عمر بی بی بھی گُنگ سی ہوگئیں لیکن اُس کے اَوسان ابھی بحال تھے۔ جلدی جلدی ساتھ پڑے خالی لوہے کے چھوٹے سے ٹرنک میں بچّوں کے چند کپڑے ٹھونسے اور دروازے کی طرف دوڑنے ہی والی تھی کہ ”میں“ نے دیوار میں ”آلے“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”زیور تو لے لو“۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیشن پر کئی ایسے کام ہوتے ہیں جن پر بہت کم لوگوں کی توجہ جاتی ہے، گاڑی پلیٹ فارم میں داخل ہوتی ہے تو ہر کوئی مورچے میں تیار بیٹھا ہوتا ہے۔
خطرناک حالات
یاد رہے کہ حالات جب خراب سے خراب تر ہو رہے تھے تو ہر چڑھتی صبح…… چمکتی دوپہر…… اور ڈھلتی شام…… ہر کسی کو جان کے لالے پڑے تھے۔ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے…… ہر روز دائیں بائیں سے کُشت و خون، ہنگاموں، ظلم و بر برّیت کی خبریں …… بڑے تسلسل سے آرہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سچائی کو ہرایا نہیں جا سکتا، سیلاب ہر سال آتا ہے، تباہی مچاتا انسان بھی بہا لے جاتا ہے۔ ہم روتے ہیں امداد مانگنے لگ جاتے ہیں لیکن منصوبہ بندی نہیں کرتے
خاندان کی حفاظت
چوہدری اور بیگم نے یہی مناسب جانا کہ جو تھوڑا بہت زیور ہے اُس کی نشاندہی سب بچّوں کو بھی کر دی جائے۔ نا جانے کون اس خُونی سیلاب کی زد میں آکر ایک بے گورو کفن لاش کا منظر پیش کرے یا قدرت کی کرشمہ سازی سے بچ نکلے۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی سے دوبارہ ہاتھ نہ ملانے کا اعلان
فرار کی کوشش
والد صاحب جو باہر کی طرف بھاگنے ہی والے تھے فوراً مُڑے اور باورچی خانہ میں پڑی چُھری سے اُس ”آلے“ کے منہ سے مِٹّی کو اِدھر اُدھر گرا کر ایک رنگدار کپڑے کی تھیلی میں بند زیور نکال کر والدہ کو تھماتے ہوئے باہر کو بھاگ کھڑے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے
خاندان کی دوڑ
والدہ صاحبہ، میں، بھائی عبد الرشید اور دونوں ہمشیرہ اُن کے پیچھے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے۔ چودھری صاحب گلی کے مشرق کی طرف واقع کُشادہ سڑک کی طرف جانے کی بجائے گاؤں کے مغرب سے آنے والی ایک تنگ سی گلی کی طرف لپکے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو جو خواب دکھائے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔۔۔جی ڈی وینس نے نیتن یاہو کو جھاڑ پلادی: برطانوی میڈیا
دھشت کی لمحے
یہ گلی ہمسایہ ”عیدو“ کے مکان پر آکر اختتام پذیر ہوجاتی تھی کیونکہ عیدو کے گھر اور گلی کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔ چودھری ہاشم علی جو خود 45 کے پیٹے میں تھے دیوار کو پلک جھپکنے میں پھلانگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم
خاندان کا بچاؤ
دونوں بھائی بھی تھوڑی سی کوشش سے کودنے میں کامیاب ہوئے۔ امّی نے دونوں بہنوں کو اُٹھا کر اُس پار ابّو کو پکڑایا اور خود بھی جُوں تُوں کر کے گلی کے اُس پار چھلانگ لگا گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: امارات نے امریکہ کے ساتھ مل کر یمن میں فوجی کارروائی کی تردید کردی
عیدو کا مشاہدہ
ہمسایہ ”عیدو“ اس سارے ”فلمی سین“ جیسے واقعہ کو اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا، سمجھ گیا کہ جس قیامت کی گھڑی کے آنے کی منحوس خبر اتنے دنوں سے اِس گاؤں پر مُنڈلا رہی تھی اب آن پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میری ساری توجہ لوگوں کو مفت علاج کی فراہمی پر مرکوز ہے: مریم نواز
پناہ گزینی
ورنہ ”چودھری ہاشم علی“ اور دیواریں پھلانگتا پھرے ممکن نہیں؟ عیدو نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ …… سب اہل خانہ کو دیوار کے اُس پار کر کے مغرب کی طرف دوڑ لگا دی۔اس طرح سارا گاؤں نکل کھڑا ہوا۔
جاری ہے
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








