سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے تھا، ہیجانی کیفیت طاری تھی، تیز تیز قدم اٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اٹھے ”جلدی کرو جلدی کرو، گھر سے باہر نکلو“
تحریر کی تفصیل
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 29
یہ بھی پڑھیں: نوشہرو فیروز میں کینال منصوبے کے خلاف قوم پرست جماعتوں کا احتجاج، گاڑیوں اور صوبائی وزیر کے گھر کو آگ لگا دی
پہلا منظر
ایک انجانے خوف میں جکڑے لیکن بظاہر اِس پُر سکون گاؤں میں 20 ستمبر 1947ء کی شام کے 4 بچ چکے تھے۔ میرے والد صاحب چودھری ہاشم علی تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اُٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نیول اکیڈمی میں 123ویں مڈ شپ مین اور 31ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کمیشننگ پریڈ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور مہمان خصوصی شرکت
خطرے کا احساس
”جلدی کرو جلدی کرو…… گھر سے باہر نکلو“…… ”معاملہ کیا ہے“ والدہ صاحبہ عمر بی بی نے استفسار کیا؟ ”یہ سوال و جواب کا وقت نہیں ہے۔“ چوہدری صاحب کا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا۔ اُن پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی نے 28 ویں ترمیم کی مشروط حمایت کر دی
خاندان کی تیاری
والدہ صاحبہ عمر بی بی بھی گُنگ سی ہوگئیں لیکن اُس کے اَوسان ابھی بحال تھے۔ جلدی جلدی ساتھ پڑے خالی لوہے کے چھوٹے سے ٹرنک میں بچّوں کے چند کپڑے ٹھونسے اور دروازے کی طرف دوڑنے ہی والی تھی کہ ”میں“ نے دیوار میں ”آلے“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”زیور تو لے لو“۔
یہ بھی پڑھیں: تحریکِ انصاف کی سیاست دوسرے صوبوں میں مداخلت تک محدود ہو چکی ہے، عابد شیر علی
خطرناک حالات
یاد رہے کہ حالات جب خراب سے خراب تر ہو رہے تھے تو ہر چڑھتی صبح…… چمکتی دوپہر…… اور ڈھلتی شام…… ہر کسی کو جان کے لالے پڑے تھے۔ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے…… ہر روز دائیں بائیں سے کُشت و خون، ہنگاموں، ظلم و بر برّیت کی خبریں …… بڑے تسلسل سے آرہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش، گرمی کا زور ٹوٹ گیا
خاندان کی حفاظت
چوہدری اور بیگم نے یہی مناسب جانا کہ جو تھوڑا بہت زیور ہے اُس کی نشاندہی سب بچّوں کو بھی کر دی جائے۔ نا جانے کون اس خُونی سیلاب کی زد میں آکر ایک بے گورو کفن لاش کا منظر پیش کرے یا قدرت کی کرشمہ سازی سے بچ نکلے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے سینے میں بہت کچھ دفن، میرا میٹر گھومے تو کبھی کبھی باجوہ کے خلاف کہہ دیتا ہوں، خواجہ آصف ایک بار پھر اپنے روایتی انداز میں سامنے آگئے
فرار کی کوشش
والد صاحب جو باہر کی طرف بھاگنے ہی والے تھے فوراً مُڑے اور باورچی خانہ میں پڑی چُھری سے اُس ”آلے“ کے منہ سے مِٹّی کو اِدھر اُدھر گرا کر ایک رنگدار کپڑے کی تھیلی میں بند زیور نکال کر والدہ کو تھماتے ہوئے باہر کو بھاگ کھڑے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کا قتل، جے آئی ٹی نے امیر معصب اور امیر فتح کو قصور وار قرار دے دیا
خاندان کی دوڑ
والدہ صاحبہ، میں، بھائی عبد الرشید اور دونوں ہمشیرہ اُن کے پیچھے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے۔ چودھری صاحب گلی کے مشرق کی طرف واقع کُشادہ سڑک کی طرف جانے کی بجائے گاؤں کے مغرب سے آنے والی ایک تنگ سی گلی کی طرف لپکے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کا پرانا نام شالکوٹ تھا، انگریزوں نے 1876ء میں اس علاقے پر قبضہ کرکے عظیم شہر بسایا، یورپی انداز میں تعمیر کیا، اسے چھوٹا لندن بھی کہا جاتا تھا۔
دھشت کی لمحے
یہ گلی ہمسایہ ”عیدو“ کے مکان پر آکر اختتام پذیر ہوجاتی تھی کیونکہ عیدو کے گھر اور گلی کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔ چودھری ہاشم علی جو خود 45 کے پیٹے میں تھے دیوار کو پلک جھپکنے میں پھلانگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ووٹ الف کو دیتے ہیں حکومت میں ب آجاتا ہے: پیر پگارا
خاندان کا بچاؤ
دونوں بھائی بھی تھوڑی سی کوشش سے کودنے میں کامیاب ہوئے۔ امّی نے دونوں بہنوں کو اُٹھا کر اُس پار ابّو کو پکڑایا اور خود بھی جُوں تُوں کر کے گلی کے اُس پار چھلانگ لگا گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں فضائی آلودگی میں کمی
عیدو کا مشاہدہ
ہمسایہ ”عیدو“ اس سارے ”فلمی سین“ جیسے واقعہ کو اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا، سمجھ گیا کہ جس قیامت کی گھڑی کے آنے کی منحوس خبر اتنے دنوں سے اِس گاؤں پر مُنڈلا رہی تھی اب آن پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نسیم شاہ، جسپریت بمراہ سے ‘بہتر بالر’ قرار
پناہ گزینی
ورنہ ”چودھری ہاشم علی“ اور دیواریں پھلانگتا پھرے ممکن نہیں؟ عیدو نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ …… سب اہل خانہ کو دیوار کے اُس پار کر کے مغرب کی طرف دوڑ لگا دی۔اس طرح سارا گاؤں نکل کھڑا ہوا۔
جاری ہے
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








