مقبوضہ کشمیر میں اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی ہے: دفتر خارجہ
پاکستان کی مذمت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی فوج کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو
مذہبی آزادی کی خلاف ورزی
اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مساجد اور مذہبی امور میں مداخلت مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے، اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طلال چودھری، ایویں سہیل آفریدی کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنی تنظیم سازی پر توجہ دیں، شیخ وقاص اکرم
بھارتی اقدامات کی نوعیت
''جنگ'' کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد مسلمانوں میں خوف پھیلانا اور عبادات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ یہ اقدامات ہندوتوا نظریئے کے تحت ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے زخم ابھی تازہ ہیں اور اب 27ویں آئینی ترمیم کی بات کی جا رہی ہے،اسد قیصر
امتیازی پالیسیاں
مساجد اور مسلم علماء کو نشانہ بنانا امتیازی اور متعصبانہ پالیسیوں کا ثبوت ہے، کشمیری عوام کو بلا خوف و جبر مذہبی آزادی کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔
پاکستان کی حمایت
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے، مذہبی جبر اور عدم برداشت کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔








