مقبوضہ کشمیر میں اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی ہے: دفتر خارجہ
پاکستان کی مذمت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 10 مئی کے بعد اب بیرون ملک گرین پاسپورٹ کی تعریف کی جاتی ہے: شرجیل میمن
مذہبی آزادی کی خلاف ورزی
اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مساجد اور مذہبی امور میں مداخلت مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے، اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک نئی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، ترک صدر
بھارتی اقدامات کی نوعیت
''جنگ'' کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد مسلمانوں میں خوف پھیلانا اور عبادات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ یہ اقدامات ہندوتوا نظریئے کے تحت ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے جنگ کے دنوں میں سب سے متحرک وزیراعلیٰ کا رول ادا کیا : عظمیٰ بخاری
امتیازی پالیسیاں
مساجد اور مسلم علماء کو نشانہ بنانا امتیازی اور متعصبانہ پالیسیوں کا ثبوت ہے، کشمیری عوام کو بلا خوف و جبر مذہبی آزادی کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔
پاکستان کی حمایت
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے، مذہبی جبر اور عدم برداشت کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔








