مقبوضہ کشمیر میں اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی ہے: دفتر خارجہ
پاکستان کی مذمت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بعض اوقات آپ کو خود بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ دوسروں کی طرف سے اظہار ہمدردی پر مبنی رویہ آپ کے احساس کمتری کی واضح علامت ہے
مذہبی آزادی کی خلاف ورزی
اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مساجد اور مذہبی امور میں مداخلت مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے، اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے معروف فلم ساز اور ’کے جی ایف 2‘ کے ڈائریکٹر ’کرتن نداگوڑا‘ کا 4 سالہ بیٹا لفٹ میں پھنس کر جاں بحق
بھارتی اقدامات کی نوعیت
''جنگ'' کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد مسلمانوں میں خوف پھیلانا اور عبادات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ یہ اقدامات ہندوتوا نظریئے کے تحت ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت بدترین شکست کے بعد پھر بدلہ لینے کا منصوبہ بنائے گا، لیاقت بلوچ
امتیازی پالیسیاں
مساجد اور مسلم علماء کو نشانہ بنانا امتیازی اور متعصبانہ پالیسیوں کا ثبوت ہے، کشمیری عوام کو بلا خوف و جبر مذہبی آزادی کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔
پاکستان کی حمایت
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے، مذہبی جبر اور عدم برداشت کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔








