سندھ حکومت نے تمام تعلیمی بورڈز میں ’نمبرسسٹم‘ ختم کردیا
سندھ حکومت کا نیا گریڈنگ نظام
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں ‘نمبر سسٹم‘ ختم کردیا۔ میٹرک اور انٹر کے لیے نئے گریڈنگ نظام کی منظوری دے دی گئی ہے۔ نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے علاقے کورنگی میں شادی کے روز دلہا لاپتہ ہوگیا
وزیر جامعات کا بیان
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ قدیم نمبر سسٹم ختم کرکے نیا ‘گریڈنگ سسٹم‘ نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل تصور ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات، اہم امور پر گفتگو
امتحانات کا آغاز
اسماعیل راہو نے کہا کہ رواں سال 2026 میں 9ویں اور 11ویں کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس کا آغاز کیا جائے گا۔ سال 2027 میں دہم اور بارہویں کے سالانہ امتحانات پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ڈیمز کی شرح خطرناک حد تک کم، نئے ڈیمز کی تعمیر اور موجودہ نظام کی بہتری پر کام نہ کیا گیا تو۔۔۔؟ تہلکہ خیز رپورٹ
گریڈنگ کا نیا نظام
اے ڈبل پلس، 96 فیصد سے 100 فیصد؛ اے پلس 91 فیصد سے 95 فیصد؛ اے 86 فیصد سے 90 فیصد؛ بی ڈبل پلس 81 فیصد سے 85 فیصد ہوگا۔
پاسنگ مارکس کی نئی حد
نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ جو طلبہ کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے، انہیں ’یو‘ یعنی ‘ان گریڈڈ’ قرار دیا جائے گا۔








