ایران سے کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کشیدگی پر بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز اور اضافی فوجی اثاثے تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال، ملکی ترسیلات میں اضافے کا سلسلہ جاری
مذاکرات کی جاری صورتحال
العربیہ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ فوجی کارروائی سے بچا جا سکے۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: باغ میدان میں خوارج کی ایک اور بزدلانہ کارروائی، احتجاجی شہریوں پر پہاڑوں سے فائرنگ، تین افراد شہید، نو زخمی
ایران کی جوہری تنصیبات پر پہلے کے حملے
امریکی صدر نے گزشتہ موسمِ گرما میں ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے ان کے اقدام کرنے کے ارادے کو کمزور سمجھا تھا۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے کہا، “پچھلی بار انہیں یقین نہیں تھا کہ میں واقعی یہ قدم اٹھاؤں گا، انہوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔”
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں زہریلی شراپ پینے سے 6 افراد ہلاک
موجودہ مذاکرات کا مقصد
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے تھے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ مذاکرات اس سے بالکل مختلف ہیں اور ان کے بقول اب ایران کسی معاہدے کے لیے زیادہ بے تاب نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پارٹی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں پھر علیمہ خانم نے خود کیوں احتجاج کی کال دی؟ علی محمد خان کی مبینہ آڈیو لیک
سخت کارروائی کا امکان
انہوں نے مزید کہا کہ ایران “شدید طور پر” معاہدہ چاہتا ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ سخت کارروائی کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، “یا تو ہم معاہدہ کر لیں گے، یا پھر ہمیں پچھلی بار کی طرح بہت سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔”
فوجی تیاریوں کی تصدیق
امریکی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ خطے میں وسیع تر فوجی تیاریوں کے تحت ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔








