ایران سے کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کشیدگی پر بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز اور اضافی فوجی اثاثے تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت سے سزائیں؛الیکشن کمیشن نے 2ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیدیا
مذاکرات کی جاری صورتحال
العربیہ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ فوجی کارروائی سے بچا جا سکے۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ترکش ائیرلائن کے طیارے سے ٹیک آف کے دوران پرندہ ٹکرا گیا
ایران کی جوہری تنصیبات پر پہلے کے حملے
امریکی صدر نے گزشتہ موسمِ گرما میں ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے ان کے اقدام کرنے کے ارادے کو کمزور سمجھا تھا۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے کہا، “پچھلی بار انہیں یقین نہیں تھا کہ میں واقعی یہ قدم اٹھاؤں گا، انہوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔”
یہ بھی پڑھیں: انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 2026 کے لئے داخلہ جمع کرانے کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع
موجودہ مذاکرات کا مقصد
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے تھے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ مذاکرات اس سے بالکل مختلف ہیں اور ان کے بقول اب ایران کسی معاہدے کے لیے زیادہ بے تاب نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
سخت کارروائی کا امکان
انہوں نے مزید کہا کہ ایران “شدید طور پر” معاہدہ چاہتا ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ سخت کارروائی کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، “یا تو ہم معاہدہ کر لیں گے، یا پھر ہمیں پچھلی بار کی طرح بہت سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔”
فوجی تیاریوں کی تصدیق
امریکی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ خطے میں وسیع تر فوجی تیاریوں کے تحت ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔








