ہمارا دھرنا پرامن ہے، پارلیمنٹ 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، کھانا پینا بند کر کے کربلا کا سماں پیدا کیا گیا، اسد قیصر
پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن پارلیمنٹ اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10، پنشن میں 5فیصد اضافے کا اعلان
عمران خان کی صحت کا معاملہ
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔ عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات، حالیہ دورہ عمان اور ایران کے حوالے سے آگاہ کیا
دھرنے کی منطق اور حکومت کا رد عمل
ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔
سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کی ذمہ داری
ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔
اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات… pic.twitter.com/u4AysYeD6B
— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) February 14, 2026








