حکومت کو عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں وفاقی حکومت کی اپیل زائد المیعاد قرار دے کر خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: بال ٹیمپرنگ کا معاملہ، شاہین، فخر اور حارث مصیبت میں پھنس گئے، ویڈیو ثبوت سامنے آ گیا
عدالت کی باتیں
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ کی جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ دیا کہ حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں، اسے بھی عام شہری کی طرح قانون ماننا پڑے گا۔ ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے، لیکن خود بہانے بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت ممکنہ طور پر مقبوضہ کشمیر کو ایک علیحدہ ریاست بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، اسحاق ڈار نے خدشہ ظاہر کردیا
حکومتی استدعا مسترد
سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفتروں کے اندر رولز یا انتظامی مشکل وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہو سکتے۔ حکومت کے مطابق افسر کے تبادلے کی وجہ سے فائلیں دفتر رہیں، جس کی وجہ سے اپیل دائر کرنے میں دیر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر ہاؤس سندھ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیے ہزاروں کا عوامی اجتماع لوگ کیا کہتے ہیں؟ آپ بھی دیکھیے
عدالت کی تشریح
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے۔ ریاست اپنی نااہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی۔ بیوروکریسی کی سستی کی سزا دوسرے فریق کو نہیں دی جا سکتی۔ قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہئے۔
اپیل کی تاخیر
وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی۔








