حکومت کو عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں وفاقی حکومت کی اپیل زائد المیعاد قرار دے کر خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: مبینہ پولیس مقابلہ، خطرناک اشتہاری ملزم مارا گیا، 2 ساتھی فرار
عدالت کی باتیں
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ کی جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ دیا کہ حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں، اسے بھی عام شہری کی طرح قانون ماننا پڑے گا۔ ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے، لیکن خود بہانے بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈا پور نے بشریٰ بی بی کے اکیلے چھوڑے جانے کے دعوے کی تردید کردی
حکومتی استدعا مسترد
سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفتروں کے اندر رولز یا انتظامی مشکل وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہو سکتے۔ حکومت کے مطابق افسر کے تبادلے کی وجہ سے فائلیں دفتر رہیں، جس کی وجہ سے اپیل دائر کرنے میں دیر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت عالمی امن کے لئے خطرہ بن چکا ہے، طالبان رجیم کے پیدا کردہ حالات نائن الیون سے زیادہ خطرناک ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری
عدالت کی تشریح
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے۔ ریاست اپنی نااہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی۔ بیوروکریسی کی سستی کی سزا دوسرے فریق کو نہیں دی جا سکتی۔ قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہئے۔
اپیل کی تاخیر
وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی۔








