جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے مذاکرات، کن اہم تجاویز پر بات ہوئی؟ ایرانی وزارت خارجہ نے تفصیلات شیئر کر دیں
جنیوا مذاکرات کی تفصیلات
جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے مذاکرات ہوئے، کن اہم تجاویز پر بات ہوئی؟ ایرانی وزارت خارجہ نے تفصیلات شیئر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سے بات چیت میں مکمل ڈیڈلاک ہے: رانا ثنا اللّٰہ
مذاکرات کا پس منظر
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران بات چیت کا وقفہ ہوا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی مسودہ امریکی وفد کو پیش کیا۔ عمانی وزیر خارجہ کے مطابق، امریکی وفد سے ملاقات میں ایران کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور معاہدے کے لیے ضروری ضمانتوں پر بات کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کن سٹارز کے لوگوں کیلئے اپریل کا مہینہ مالی اعتبار سے شاندار رہے گا؟ زبردست پیشگوئی سامنے آ گئی
اہم تجاویز پر گفتگو
’’جنگ‘‘ کے مطابق، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جوابی کارروائی ضرور کرے گا، لیکن یہ کارروائی کیا ہوگی اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے، لیفٹیننٹ جنرل مارک سی شوارٹز
مذاکرات کی سنجیدگی
ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ مذاکرات بہت سنجیدہ تھے اور کئی اقدامات ایسے کیے گئے ہیں جن پر مزید ممالک سے مشاورت کی ضرورت ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات تیسرے مرحلے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راجہ فاروق حیدر کی سرکاری چینل پر پریس کانفرنس کے دوران سگریٹ پینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ایران کی سلامتی کی پوزیشن
ایرانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کا جوہری ہتھیار تیار نہ کرنا ہے تو یہ ایرانی قیادت کے فتوے اور ایران کے دفاعی نظریئے کے عین مطابق ہے۔ عباس عراقچی کے پاس حمایت اور اختیار ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ سے پہلے پاکستان ٹیم کے دورۂ سری لنکا کا اعلان
ایران کی تجاویز
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی کی 7 سالہ معطلی، افزودگی میں 60 فیصد کمی اور جوہری بجلی گھر کے لیے افزودگی 3 اعشاریہ 6 فیصد پر لانے کی تجاویز دی گئی ہیں، لیکن ایران نے یورینیم ذخائر بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج کے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس سے پہلے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر خطے کے ممالک کی حدود ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو ان ملکوں میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانا جائز ہوگا۔








