جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے مذاکرات، کن اہم تجاویز پر بات ہوئی؟ ایرانی وزارت خارجہ نے تفصیلات شیئر کر دیں
جنیوا مذاکرات کی تفصیلات
جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے مذاکرات ہوئے، کن اہم تجاویز پر بات ہوئی؟ ایرانی وزارت خارجہ نے تفصیلات شیئر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیر اعظم سے ملاقات متوقع
مذاکرات کا پس منظر
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران بات چیت کا وقفہ ہوا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی مسودہ امریکی وفد کو پیش کیا۔ عمانی وزیر خارجہ کے مطابق، امریکی وفد سے ملاقات میں ایران کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور معاہدے کے لیے ضروری ضمانتوں پر بات کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کے سجوانی گروپ کی وزیراعظم سے ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
اہم تجاویز پر گفتگو
’’جنگ‘‘ کے مطابق، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف اور بلاول بھٹو سمیت سیاسی شخصیات کی قوم کو یوم تکبیر پر مبارکباد
مذاکرات کی سنجیدگی
ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ مذاکرات بہت سنجیدہ تھے اور کئی اقدامات ایسے کیے گئے ہیں جن پر مزید ممالک سے مشاورت کی ضرورت ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات تیسرے مرحلے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، نئے رولز 2025 متفقہ طور پر منظور
ایران کی سلامتی کی پوزیشن
ایرانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کا جوہری ہتھیار تیار نہ کرنا ہے تو یہ ایرانی قیادت کے فتوے اور ایران کے دفاعی نظریئے کے عین مطابق ہے۔ عباس عراقچی کے پاس حمایت اور اختیار ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: اربوں ڈالر کی آمدن، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے تیل کی صنعت پر گرفت مضبوط کر لی
ایران کی تجاویز
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی کی 7 سالہ معطلی، افزودگی میں 60 فیصد کمی اور جوہری بجلی گھر کے لیے افزودگی 3 اعشاریہ 6 فیصد پر لانے کی تجاویز دی گئی ہیں، لیکن ایران نے یورینیم ذخائر بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج کے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس سے پہلے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر خطے کے ممالک کی حدود ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو ان ملکوں میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانا جائز ہوگا۔








