دوسری جنگِ عظیم میں 2 ایٹمی حملوں کی زد میں آنے کے باوجود جاپان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ہے تو صرف اور صرف جدید تعلیم کی وجہ سے ہے۔
تعلیمی نظام پر تنقید
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 320
میجر شبیر احمد (ستارۂ شجاعت) نے روایتی تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کوئی ایجوکیشن پالیسی نہیں ہے۔ آج بھی طالبعلموں کو روایتی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کا روس کے بمبار طیاروں پر بڑا حملہ، کیا اس سے جنگ کی پوزیشن تبدیل ہوگی؟
تعلیم کی اہمیت
”تعلیم کا زوال ہے تو ہے ملت کا زوال“ ثروت روبینہ (سماجی کارکن) کا کہنا تھا کہ ایٹمی بموں کا حملہ قوموں کو نیست و نابود نہیں کرتا، بلکہ تعلیم سے دوری قوموں کو تباہ کر دیتی ہے۔ انہوں نے جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم میں 2 ایٹمی حملوں کی زد میں آنے کے باوجود آج جاپان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں اول نمبر پر ہے تو صرف اور صرف جدید تعلیم کی وجہ سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چمن: انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید
تعلیم کے لیے اقدامات
قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے حکمرانوں کو فوری طور پر جن محاذوں پر ڈٹ جانا چاہیے تھا، ان میں سے سب سے اہم تعلیم ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسولؐ اللہ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی، اس کا آغاز اقراء یعنی پڑھو سے کیا گیا ہے۔ قرآنِ پاک میں بھی متعدد مقامات پر تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انسان کو یہ دعا کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں کا خدشہ، سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری
تعلیمی مضامین اور نصاب
ثروت روبینہ کا ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام تعلیمی اداروں میں ان مضامین کو لازمی قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جسے قومی نصاب کہا جا سکے۔ ایسا نصاب جو تمام سرکاری سکولوں، پرائیویٹ سکولوں اور مدرسہ نظام سکولوں میں یکساں ہو۔
یہ بھی پڑھیں: عالیہ بھٹ کی نئی فلم ‘جگرا’ کو بغیر کسی کٹ کے نمائش کی اجازت مل گئی
اساتذہ اور حکومت کا کردار
وائس چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ/ ماہر تعلیم ڈاکٹر رفیق احمد کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی تعلیمی حالت اس وقت تک نہیں سدھر سکتی جب تک حکومت کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی اپنا کردار ادا نہ کریں۔ ملک کے مستقبل کی ذمہ داری استاد پر بھی اتنی ہی عائد ہوتی ہے جتنی کہ ماں پر۔
تعلیمی نظام کی بہتری کے اقدامات
ملک میں رائج نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیے درج ذیل اقدامات عمل میں لائے جا سکتے ہیں:
- انگریزی کے ساتھ قومی زبان اردو کو بھی تعلیمی زبان قرار دینا۔
- فعال تعلیمی پالیسی۔
- ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان۔
- رٹا سسٹم کی نفی۔
- ٹیکنیکل تعلیم پر زور دیا جائے۔
- جدید علوم کا حصول ممکن بنایا جائے، کیونکہ کوئی بھی ملک جدید تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔
- زراعت، تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے مضامین پر خصوصی توجہ دی جائے۔
- نئے بچوں کو داخلہ دینے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود طلباء کی تعلیمی بہتری کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں۔
- قرآن پاک کی باترجمہ تدریس، اقبالیات سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔
- اردو قومی زبان کو نہ صرف نصاب کی تعلیمی زبان قرار دیا جائے بلکہ اسے بطور سرکاری دفتری زبان نافذ کیا جائے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








