ہم ناکام ہوئے ہیں، ایران جنگ کے بعد اماراتی صدر کے مشیر کا بیان
ابو ظہبی میں کشیدگی کی تشویش
ابو ظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کو ایک “تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت بے شمار چیلنجز سے بھرا ہوا ہے اور خطے کے ممالک علاقائی استحکام یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج ختم کرنے کا حیران کن فیصلہ کر لیا: نجی ٹی وی کی رپورٹ
امریکی اور ایرانی تعلقات کی اہمیت
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ اور ایران جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر خطے کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنائے، تاہم اس بار یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ خطے کے ممالک کو مل کر حالات کو اس نہج تک پہنچنے سے روکنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اس دور میں لڑکوں کیلئے سکاؤٹنگ موومنٹ اور لڑکیوں کیلئے گرل گائیڈ تحریک ملک بھر میں فعال نظر آتی تھیں، نتھیا گلی مری میں ہر سال کیمپ منعقد ہوتے تھے۔
مذاکرات کی ضرورت
انور قرقاش نے بتایا کہ ان کا ملک اور دیگر علاقائی ریاستیں جنگ کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، جسے ہفتے کے روز ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں نشانہ بنایا گیا، اس بات کو پوری طرح نہیں سمجھتا کہ یہ جنگ کس سمت جائے گی، اس لیے فوری طور پر مذاکرات کی طرف واپسی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
عسکری تناؤ کا خطرہ
انہوں نے ایران کی جانب سے تنازع کو ہمسایہ ممالک تک وسعت دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال پر انتہائی افسردہ ہیں، تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے کہ خطے کو ایسی وسیع فوجی محاذ آرائی سے بچانا ہوگا جس کے نتائج اور دائرہ کار کا مکمل اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
ایران کے پروگراموں کا اثر
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل باقاعدہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے ایسے اقدام کی توقع ضرور تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام علاقائی استحکام کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان مسائل کا حل صرف سیاسی عمل اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔








