ایک دن شام ڈھلے شہنائیاں بجنے لگیں۔ سارے بینڈ باجے نے کی تقلید۔ اِک سماں بندھ گیا۔ یار! شادی پہ تو ہم تھے تیار؟ یہ کون کود پڑا پہلے بیچوں بیچ۔
تفصیلات
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 72
کامونکی ضلع گوجرانوالہ……
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے کا مال گاڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے ان پر ٹریکنگ ڈیوائس لگانے کا فیصلہ
حادثہ
سروے کی ڈیوٹی پر مامور امریکن ایڈ میں آئی "Willey Jeep" کی سواری۔ دائیں طرف نہر پر ڈرائیور نے چلا دی گاڑی۔ چلتی گئی لیکن کب تلک، دھڑام سے جا گری نہر میں۔ چھت نیچے پہیے اُوپر…… جان کے لالے پڑے شور مچا۔ ایک کا کندھا چِھلا …… ایک کا بازو ٹُوٹا…… پانی نہ تھا خالی تھی نہر۔ جان بچی لاکھوں پائے۔ ساتھ بستے رستے گاؤں سے امداد جولی، تو نکالا جیپ کو بَصد مُشکل…… وہاں نہر کنارے ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا اور ”سروے“ کا آغاز ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: تمام سگنلز ڈاؤن: راستہ خالی اور استقبال کے تمام انتظامات مکمل ہیں، اب گاڑی بلا خوف و خطر روانہ ہوسکتی ہے
شادی کی خوشبو
ایک دن شام ڈھلے شہنائیاں جو بجنے لگیں۔ سارے بینڈ باجے نے کی تقلید۔ اِک سماں بندھ گیا ساتھ گاؤں میں۔ یار! شادی پہ تو ہم تھے تیار؟ یہ کون کُود پڑا پہلے بیچوں بیچ۔ پریشانی و سرا سمیگی کے عالم میں بلا بھیجا ریسٹ ہاؤس کے خادم کو۔
یہ بھی پڑھیں: پاک امریکہ تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت، آئندہ ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق
رےائے کا حال
پُوچھا بتا یہ کِس نوجوان کی شادی ہے؟ کتنی عمر ہے اور کیا ہے سلسلہ روزگار؟ دُلہن دیکھی تو ہوگی بنی سنوری۔ اچھی خاصی قبول صُورت ہوگی؟ گُنگ سا بنا کھڑا دیکھا کیا! بھئی کچھ تو بولو۔ یہ شہنائیاں بج رہی ہیں شادی و شادمانی ہے۔ تُجھ سے تو لگے جیسے کسی کی تدفین کی غمگساری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حاجی محمد یوسف خان رند نے باقاعدہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی
دُلہن کی تصویریں
نہ ہی پُوچھتے تو بہتر تھا۔ کہنے لگا ایک بُڈھّا ہے مالدار 60 سالہ۔ 2 مربعّ زمین کا مالک۔ تیسری شادی کا ڈول ڈالے ہے اور دُلہن معصوم و مجبور 16 سالہ۔ غربت کی چکّی میں پِسی۔ نان و نفقہ کی محتاج۔ غُربت جوانی کو تو نہ چھپا سکے ہر گز۔ وہ شرابی نین۔ گالوں پہ جمی ہلکی مٹی سے بھی تو شفق کی سُرخی چھلکے۔ وہ بازوں کا سڈول پن تو چکّی کی پسائی نے اور بھی کردیا درخشاں۔ ابھی چمک بالوں میں نہیں تو کیا پر چہرے پہ جو گریں تو بجلیاں گرا جائیں دِلوں پر۔ چال ساحرانہ نہ سہی ابھی مَستانہ تو ضرور مشاہدہ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 ستمبر کو فلسطینی ریاست پر خوشخبری دیں گے، مولانا طاہر اشرفی کا دعویٰ
دعوت کی تفصیلات
ابھی کل ہی جو مہندی لگی ہاتھوں پہ سب کہہ اُٹھے کیا رُوپ آیا ہے۔ منہ بھی صابن سے نائن نے مَل مَل کے دھلایا تھا۔ 15 ایکڑ زرعی اراضی لکھ دی ہے دلہن کے نام۔ زیوروں کے بنائے گئے کئی سیٹ۔ زرق برق کپڑوں کی تو ہے بھر مار۔
دعوت عام ہے سب گاؤں والوں کو۔ کھائیں پلاؤ۔ قورمہ، زردہ اور نان۔ اُدھر حکیم ہدایت اللہ ہے مُصرُوفِ کار اور بن رہے ہیں کُشتے اور معجونِ مرکبّ۔
بس بس! نکلا میری زبان سے اور رکھّا ریسٹ ہاؤس کے خادم کے مُنہ پہ ہاتھ۔ کہا رہنے دو۔ آگے مت بولو خدارا! کہ سُنا ہے ”جوڑے تو بنتے ہیں آسمانوں پر“.
یہ بھی پڑھیں: مرغی کے گوشت کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ
سروے کی تیاری
اب جو باقاعدہ سوئل سروے کا کام شروع ہوا تو دو دو، تین تین لڑکوں کا گروپ بنا کر فیلڈ پارٹی تشکیل دے کر پنجاب کے مختلف اضلاع میں سروے کے لیے ہمیں بھیج دیا گیا۔ حسن اتقاق ہے کہ غلام شبیر بھٹی کا قُرعہ بھی میرے ساتھ والی پارٹی میں نکل آیا اور ہم اکٹھے فیلڈ میں جا کر کام کرنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم سو رہے تھے کہ اچانک زلزلہ محسوس ہوا، پاکستانی شہریوں نے بھارتی حملے کا آنکھوں دیکھا حال بتادیا
غلام شبیر بھٹی کی کہانی
فیلڈ میں غلام شبیر بھٹی کہتا کہ اُسے دو تین دن کی چُھٹی (فرلو) دی جائے تاکہ وہ اپنے گھر اپنی فیملی سے مل آئے۔ دراصل وہ شادی شدہ تھا۔ وقت گذرتا گیا۔ ہم میں سے بھی ایک ایک کر کے سب رشتہ ازدواج میں بندھتے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: شبیر اقبال کی شاندار برتری، 11ویں جے اے زمان میموریل اوپن گالف چیمپئن شپ کا فیصلہ کن مرحلہ آج ہوگا
خطرہ
حافظ آباد کے قریب ایک نہر کے کنارے ریسٹ ہاؤس میں ہم قیام پذیر تھے کہ غلام شبیر بھٹی 2 دن کی چھٹی گذار کر واپس آیا تو اُس کے ساتھ ایک اُس کی ہم عمر دوشیزہ بھی تھی۔ پوچھا کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ تو کہنے لگا کہ یہ میری دوست ہے بس 2 دن قیام کرے گی اور واپس چلی جائے گی۔ ہمارے تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی کہ اگر دفتر میں یہ اطلاع کسی ذریعے سے ہوگئی کہ فیلڈ میں تو معاشقے چل رہے ہیں تو ہم سب کی نوکریوں کا تو بولورام ہوجائے گا۔ چنانچہ بڑی ہی مِنّت سماجت کر کے غلام نصیر کو منایا اور ساتھ ہی واقع ریلوے اسٹیشن پر جا کر ”دوست‘ کو ٹرین میں بٹھا کر سُکھ کا سانس لیا.
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








