اسحاق ڈار نے ایران کے معاملے میں ہونیوالی کاوشوں سے پردہ اٹھادیا
اسحاق ڈار کی ایران کے معاملے پر گفتگو
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے مسئلے پر ہونے والی کوششوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جنگ کسی کے مفاد میں نہیں" اور یہ بات بھی واضح کی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکہ سے واپسی پر استنبول میں روکا گیا تھا تاکہ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا لورستان میں امریکی ڈرون ’’ایم کیو 9‘‘ اور تہران کے نواح میں ’’ہرمس ڈرون‘‘ تباہ کرنے کا دعویٰ ، تصاویر جاری
ایران کے جوہری معاملات پر امریکہ کے خدشات
اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ایران اور امریکہ کے معاملے میں اتنا لمبا پراسیس ہوا"۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 12 جون کو عباس عراقچی کے ساتھ ان کا استنبول میں موجود ہونا ایک اہم بات تھی۔ عاصم منیر کی واپسی کے دوران، انہیں استنبول میں روک کر ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کی بے انتہا خوشی دولہے کو مہنگی پڑ گئی
مذاکرات کی کوششیں
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ باتیں میڈیا پر نہ کہنے کی درخواست کی تھی، اور انہوں نے کہا کہ "ہم نے انہیں راضی کیا کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں"۔ اس کے بعد، انہوں نے مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کی اور ایران کا مسئلہ اٹھایا، جس پر مثبت ردعمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام سے متعلق بل پر بات نہ کی تو 18ویں ترمیم بھی ختم ہوگی اور سندھ میں صوبہ بھی بنے گا، مصطفیٰ کمال
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے امریکہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جوہری توانائی کا پرامن استعمال ہر ملک کا حق ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ کھڑا ہے اور وہاں کے مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔
اخے پاکستان نے ایران کے لیے کیا کیا ؟
پاکستان نے ایران کے لئے یہ سب کیا جو پہلی مرتبہ اسحاق ڈار بتا رہے
عاصم منیر کو استنبول میں اسپیشل رکوا کر ایرانی وزیر خارجہ سے میٹنگ کروائی
مارکو روبیو کے سامنے مقدمہ رکھا ایران کو نیوکلئیر بنانے کا حق ہے سب کچھ تباہ نہیں ہو سکتا
ہور ہُن… pic.twitter.com/RBDQFc8K6N— Kippsam Malik (@KeepsamM) March 3, 2026
آخری خیالات
اسحاق ڈار نے کہا کہ "امریکہ کا مطالبہ تھا کہ کسی بھی قسم کی افزودگی ایران میں نہیں ہونی چاہیے"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں صرف دو فریق ہونے چاہئیں، یعنی امریکہ اور ایران، اور پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ اس مسئلے کا مؤثر حل نکلے۔








