خاتون جہاں رہائش پذیر ہو وہیں خلع اور حق مہر کا کیس دائر کر سکتی ہے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے فیملی کیسز کی سماعت اور منتقلی سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ خاتون جہاں رہائش پذیر ہو اسی ضلع کی فیملی کورٹ میں خلع اور حق مہر کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس ملک محمد اویس خالد نے خاتون عائشہ ناصر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کی رہائش گاہ کے قریب مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینا اس کے لیے قانونی کارروائی میں آسانیاں پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وہ جذباتی اور تاریخی حوالوں کے ساتھ شدید تکنیکی حملے کر رہا تھا، میری طرف سے بھی جواب میں گولے داغے جا رہے تھے، ہم دونوں ہی شدید تھک چکے تھے

خاتون کی درخواست کی تفصیلات

سماعت کے دوران درخواست گزار عائشہ ناصر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا فیملی کیس جڑانوالہ کی فیملی کورٹ سے منتقل کرکے لاہور منتقل کیا جائے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے شوہر عون عباس نے فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ کی فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق بچے کے خرچ کا ایک الگ کیس پہلے ہی لاہور کی فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی وجہ سے انہیں دو مختلف شہروں میں پیش ہونا پڑتا ہے جو ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے دلائل سننے کے بعد خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس لاہور منتقل کرنے کی اجازت دے دی، درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں صاحبزادہ مظفر ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...