کارکنان اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ سوشل میڈیا پر عمران خان کی رہائی کے لیے ہر لمحہ آوازیں بلند ہوتی تھیں، آج غیر معمولی خاموشی کیوں طاری ہے؟ شیرافضل مروت
شیر افضل مروت کا پیغام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر پی ٹی آئی کے مخلص کارکنان کے نام پیغام جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش، 15 اعلیٰ فوجی افسران جبری گمشدگیوں اور قتل کے الزام میں گرفتار
اہم سوالات
مروت نے کارکنان سے کہا کہ وہ ذرا ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ اپنے ضمیر سے ایک سوال ضرور کریں۔ آخر وہ سوشل میڈیا جس پر کل تک خان صاحب اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر لمحہ آوازیں بلند ہوتی تھیں، آج اس پر ایسی غیر معمولی خاموشی کیوں طاری ہے؟
- وہ کنٹینر کہاں گیا جسے بڑے جوش کے ساتھ “رہائی یا موت” کا نام دیا گیا تھا؟
- وہ احتجاجی ولولہ کہاں ہے جسے ہر روز انقلاب کی تمہید کے طور پر پیش کیا جاتا تھا؟
- وہ “عمران ریلیز فورس” کہاں ہے جس کے نام پر کارکنوں کے جذبات کو گرمایا گیا تھا؟
یہ بھی پڑھیں: بھارت خود کو ہم سے 10 گنا بڑا ملک کہتا ہے لیکن لڑنے کے لیے دل گردہ بھی تو چاہیے، ہم چاہتے تو بھارت کے سارے جہاز گرا سکتے تھے، آصف زرداری
سوشل میڈیا کی اہمیت
شیر افضل مروت نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ سوشل میڈیا کی ٹیم کا کردار تحریک کی آواز اور سمت متعین کرنے میں اہم ہے۔ اگر یہی پلیٹ فارم کبھی خاموشی اور کبھی وقتی نعروں سے جذبات کو ابھارنا شروع کر دے، تو کارکنان کے لیے حقیقت اور تاثر میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ زرین خان کی والدہ انتقال کر گئیں
موسم اور احتجاج
موسمِ گرما تیزی سے سر پر آ رہا ہے۔ عید کے بعد آنے والی شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کسی بھی احتجاجی تحریک کو فطری طور پر سست کر دیتی ہیں۔ اگر اس سے پہلے کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آتی تو خدشہ ہے کہ یہ معاملہ مزید طوالت اختیار کر جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ اور ندیم نانی والاکی عبوری ضمانتوں میں 6 مارچ تک توسیع
تحریک کی بقاء
انہوں نے کہا کہ تاریخ کا ایک سادہ اصول ہے، تحریکیں نعروں سے نہیں بلکہ تسلسل، جرات اور سچائی سے زندہ رہتی ہیں۔ کارکنان کا فرض ہے کہ وہ نہ تو مایوسی کا شکار ہوں اور نہ اندھی وابستگی میں حقیقت سے آنکھیں بند کریں۔
سوال کرنے کی اہمیت
اصل وفاداری یہی ہے کہ سوال پوچھا جائے، احتساب کیا جائے اور اس مقصد کو زندہ رکھا جائے جس کے لیے یہ تحریک وجود میں آئی تھی۔
پی ٹی آئی کے مخلص کارکنان کے نام:
کارکنانِ تحریکِ انصاف! ذرا ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ اپنے ضمیر سے ایک سوال ضرور کیجیے: آخر وہ سوشل میڈیا جس پر کل تک خان صاحب اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر لمحہ آوازیں بلند ہوتی تھیں، آج اس پر ایسی غیر معمولی خاموشی کیوں طاری ہے؟…— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) March 5, 2026








