قومی اسمبلی میں ملک میں فائر وال لگانے، پھر ختم کرنے پر سوالات اٹھ گئے
اسلام آباد میں قومی اسمبلی اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں ملک میں فائر وال لگانے اور پھر اسے ختم کرنے سے متعلق سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز، پرتھ ٹیسٹ 2 دن میں ختم، آسٹریلیا 8 وکٹوں سے کامیاب
سوالات کی وضاحت
’’جنگ‘‘ کے مطابق اجلاس کے دوران داوڑ خان کنڈی نے سوال اٹھایا کہ فائر وال لگانے اور پھر اسے ختم کرنے کے حقائق کیا ہیں؟ ایوان کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم تنظیم کے 23 ارب 40 کروڑ کے اثاثے اور 92 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں: عظمیٰ بخاری
وزیر آئی ٹی کا جواب
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ مجھے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا سوال بتایا گیا تھا جس کا جواب دیا گیا۔ اگر فائر وال ختم کرنے کے بارے میں سوال ہے تو الگ سے پوچھیں، تو جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 کے بعد ٹیلی کام سیکٹر میں کوئی خاص کام نہیں ہوا، لیکن اب جیسے کام ہو رہا ہے، اس سے سرمایہ کاری واپس آئے گی۔
ڈیجیٹل باؤنڈری کی حفاظت
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنی ڈیجیٹل باؤنڈری کو محفوظ بنانا ہے، جس پر 20 سال سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی میں بھارت کے خلاف جنگ کے دوران وار روم بنائے گئے، اور اس جنگ میں کوئی پاکستانی ویب سائٹ ہیک نہیں ہوئی۔








