قومی اسمبلی میں ملک میں فائر وال لگانے، پھر ختم کرنے پر سوالات اٹھ گئے
اسلام آباد میں قومی اسمبلی اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں ملک میں فائر وال لگانے اور پھر اسے ختم کرنے سے متعلق سوالات اٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
سوالات کی وضاحت
’’جنگ‘‘ کے مطابق اجلاس کے دوران داوڑ خان کنڈی نے سوال اٹھایا کہ فائر وال لگانے اور پھر اسے ختم کرنے کے حقائق کیا ہیں؟ ایوان کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا ماماں قدیر بلوچ کے انتقال پر اظہار تعزیت
وزیر آئی ٹی کا جواب
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ مجھے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا سوال بتایا گیا تھا جس کا جواب دیا گیا۔ اگر فائر وال ختم کرنے کے بارے میں سوال ہے تو الگ سے پوچھیں، تو جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 کے بعد ٹیلی کام سیکٹر میں کوئی خاص کام نہیں ہوا، لیکن اب جیسے کام ہو رہا ہے، اس سے سرمایہ کاری واپس آئے گی۔
ڈیجیٹل باؤنڈری کی حفاظت
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنی ڈیجیٹل باؤنڈری کو محفوظ بنانا ہے، جس پر 20 سال سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی میں بھارت کے خلاف جنگ کے دوران وار روم بنائے گئے، اور اس جنگ میں کوئی پاکستانی ویب سائٹ ہیک نہیں ہوئی۔








