پہلا جزیرہ اور گھوڑے کے لیے خوفناک صورتحال
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 77
ستمبر سن 1956ء میں گرمیوں کا موسم تھا، سبھی اہل خانہ گھر کے صحن میں سوتے تھے۔ لیکن اب خاص انتظام کے تحت سبھی لوگ تو گھر کی چھت پر اپنی چارپائیاں لے جا کر سو گئے اور دُولہا دُلہن کو صحن میں دو چارپائیاں ڈال کر…… دو دِلوں کے ملاپ کی راہ ہموار کر گئے۔
نکاح کا روایتی طریقہ
نکاح کے بعد دلہن کو بیاہ کے لے جانا رائج الوقت رواج کے مطابق عام طریقے سے پیا گھر سدھارنا نہیں تھا۔ اس کو ایک ریہرسل کے طور پر لیا جاتا تھا۔ تاکہ دلہن گھر دیکھ لے اور گھر کے افراد کی چہرہ شناسی کرلے اور اس کے بعد اگلے دن واپس پھر اپنے میکے آئے اور دُولہا ساتھ آئے۔ ایک دو دن قیام کے بعد پھر باقاعدہ رخصتی ہو جسے عام پنجابی میں "مکلاوا" کہتے ہیں۔
سفر کا آغاز
چنانچہ اس رَواج کی پاسداری کرتے ہوئے پھر بس سے شاہ کوٹ اور وہاں سے کرایہ کے ٹانگہ پر سسرال پہنچے۔ خاطر مدارت کا گراف اپنی اونچی سطحوں کو چھونے لگا۔ گاؤں کی عورتیں ایک دفعہ پھر اُمڈ آئیں تاکہ دولہا میاں کو اب تسلّی اور قریب سے دیکھ سکیں اور دلہن کی چہرہ شناسی کر کے اندازہ لگا سکیں کہ حالات و واقعات کی سمت اُفق کی بلندیوں کی طرف ہے یا پھر اَتھاہ گہرائیوں کی طرف۔
ٹانگے کی مشکلات
روانگی ٹانگہ کے ذریعے ہوئی۔ سامان 2 عدد بڑے جستی ٹرنک، ایک ہینڈ بیگ اور ایک میری اپنی بارہ بور کی بندوق جو اکثر شکار کی غرض سے میں ساتھ رکھتا تھا۔ شاہ کوٹ سے بس میں سوار ہو کر فیصل آباد سے پہلے رکھ برانچ نہر کے پُل پر اُتر گئے۔ وہاں ایک اور ٹانگہ کرایہ پر لیا اور سامان رکھ کر ہم بھی اُس میں بیٹھ گئے۔
گاؤں تک کا راستہ کچی سڑک تھا۔ چونکہ کچھ دیر پہلے بارش ہو چکی تھی۔ لہٰذا سڑک پر کہیں کہیں پانی کھڑا تھا۔ جو حقیقت میں کوئی قابل ذکر بات نہ تھی۔ لیکن ٹانگے کے گھوڑے نے اسے ایک کوِہ گراں سے ملا دیا۔
شرائط کا سامنا
آگے پھر اسی طرح کا ایک بے ضرر جزیرہ آگیا لیکن گھوڑے کے لیے تو یہ خوفناک صورتِ حال تھی۔ جم گئے اپنی جگہ پر۔ آگے جانے کا نام نہیں البتہ کبھی کبھار پیچھے کا گیئر لگ جاتا۔ پھر وہی کھینچا تانی اور ڈنڈوں کی گولہ باری اور پہیے سے زور آزمائی۔ اللہ اللہ کر کے یہ قلعہ بھی فتح ہوگیا۔
آخری نتیجہ
ہو گیا۔ کچھ دیر سکھ کا سانس لیا۔ لیکن اب ایک بار پھر تیسرے بھنور میں پھنس گئے۔ اب کے تو مجھے بھی کچھ غصہ آگیا اور کوچوان سے کہا کہ اگر ایسا ضدّی قسم کا گھوڑا تھا تو بتا دیا ہوتا…… ایسے گھوڑے کو گولی مار دینی چاہیے۔
اِس کے جواب میں وہ بولا گھوڑے کو نہیں گولی مجھے ماردیں۔ اِس نا معقول تبادلہ خیال کے بعد وہ ایک نئے عزم کے ساتھ گھوڑے سے نبرد آزما ہوگیا اور شدتّ سے اُس کو لتاڑنے لگا۔
گھوڑے نے پچھلی ٹانگیں چلانی شروع کردیں …… اور نتیجتاً ٹانگے کا بانس دائیں طرف پچک گیا اور اُس نے ٹانگ مار کر توڑ دیا تو اس طرح یہ مسافت اپنے اندوہناک انجام پر اختتام کو پہنچی۔
گھوڑے اور ٹانگے کو ایک ساتھ والے ڈیرے پر چھوڑا اور کوچوان دونوں ٹرنک اپنے سر پر رکھ کر ہمارے ساتھ پیدل گاؤں کی طرف چل پڑا۔ گاؤں پہنچ کر اُس کو پھر ڈرایا دھمکایا کہ ایسے گھوڑے سے مسافروں کو پریشان کرنا چھوڑ دو۔ کچھ کھلا پلا کر پورا کرایہ ادا کر کے رخصت کیا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








