یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں جو حق دفاع بحال ہونے سے مسئلہ ہوگا، بیرسٹرعلی ظفر کے ہرجانہ کیس میں دلائل
اسلام آباد میں 10ارب ارب روپے ہرجانہ کیس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) 10ارب روپے ہرجانہ کیس میں حق دفاع ختم کرنے کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواستوں پر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں جو حق دفاع بحال ہونے سے مسئلہ ہوگا، حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں امریکی کارروائی کے دوران چینی اور روسی دفاعی نظام کام نہ آیا، بزنس انسائڈر
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 10ارب روپے ہرجانہ کیس میں حق دفاع ختم کرنے کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی راج میں بھارت خواتین کے لیے دنیا کا سب سے غیر محفوظ ترین ملک قرار، نظام انصاف مفلوج، عالمی میڈیا بول اٹھا، شرمناک اعدادوشمار پیش کیے
عدالت کی جانب سے تبصرہ
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ عدالت نے کئی بار بانی پی ٹی آئی کو جواب کیلئے وقت دیا تھا، 4 سال بعد تو دعوے کا جواب جمع کروایا گیا تھا، کیا اتنی تاخیر کے بعد بھی عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی؟
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے قطر پر حملے سے پہلے امریکہ کو اطلاع دی، خالد مشعل سمیت حماس کی سینئر قیادت کو نشانہ بنایا
دفاعی نوعیت کے دلائل
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ نظرثانی کے دائرہ اختیار کو بھی ذہن میں رکھ کر دلائل دیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ اصل مسئلہ بانی پی ٹی آئی کے زخمی اور ہسپتال میں ہونا تھا، عدالتی فیصلے میں زخمی ہونے کے نقطے پر کوئی رائے نہیں دی گئی۔ یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں جو حق دفاع بحال ہونے سے مسئلہ ہوگا، حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے۔
سماعت کی تاریخ
سپریم کورٹ نے درخواستوں پر سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔








