تم سے نہیں پوچھا، خاموش رہو۔ وہ گھبرا گئے، حرام کھاتے ہو شرم آنی چاہیے، شاید ہم ”عزت“ نامی لفظ کو زندگی سے نکال چکے یا سمجھوتہ کر چکے ہیں
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 460
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بار پھر صدر بننے کا دعویٰ
دفتر کی واپسی
ہم واپس دفتر پہنچے۔ میں نے ریفرنس تیار کیا۔ کمشنر کے دفتر گیا۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی تھی کہ میں کسی بھی افسر کے دفتر بغیر دستک داخل نہیں ہوتا تھا۔ گو نہ کبھی ریفرنس گیا اور نہ ہی دوبارہ پوچھ گچھ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ سے 38 افراد ہلاک: ‘ایسا لگ رہا تھا کہ آج وہ کسی کو معاف نہیں کریں گے’
لکڑی کی کوالٹی کی جانچ
ایک روز ہم زیر تعمیر ملٹی پرپز سپورٹس کمپلیکس گوجرانوالہ کے معائنہ کے لئے شیخوپورہ روڈ چلے آئے۔ ڈسٹرکٹ فارسٹ افسر عاصم (یہ ایک اچھے ذوق کا افسر تھا۔ میری ان سے اچھی یاد اللہ تھی) بھی ہمراہ تھے کہ اس سے پہلے ہم جی ٹی روڈ پر کی جانے والی ٹری پلاٹیشن کا معائنہ کرکے آئے تھے۔
سپورٹس کمپلیکس کے ووڈن فلور پر استعمال کی گئی لکڑی ناقص تھی یا اچھی کوالٹی کی نہیں تھی۔ ایکسیئن بلڈنگ باریش اور اچھے انسان لگ رہے تھے۔ کمشنر نے کہا؛ "مجھے فرش کی لکڑی اچھی کوالٹی کی نہیں لگ رہی" جس پر ٹھیکیدار بول پڑا؛ "سر! بہترین کوالٹی کی ہے۔" کمشنر بولے: "تم سے نہیں پوچھا۔ خاموش رہو۔" دوبارہ ایکسیئن کواپنا فقرہ دھرایا؛ تو وہ گھبرا گئے؛ "سر! لکڑی ٹھیک ہے۔" عاصم نے میرے کان میں کہا؛ "سر! لکڑی اچھی کوالٹی کی نہیں ہے" پتہ نہیں میرے کان میں کہی بات کمشنر کے کان میں کیسے گھس گئی۔
کمشنر نے عاصم سے کہا؛ "کیا کہا آپ نے؟" عاصم نے جواب دیا؛ "سر! لکڑی کی کوالٹی ٹھیک نہیں" کمشنر ایکیسیئن بلڈنگ سے بولے؛ "حرام سور کھاتے ہیں آپ۔ شرم آنی چاہیے آپ کو۔" اتنے میں ایس ای بلڈنگ ساجد (یہ ہنس مکھ اور ملنسار افسر تھے) بھی پہنچ گئے۔ انہیں مخاطب کرتے بولے؛ "ساجد! آپ تو اچھے افسر ہیں۔ کل تک یہ لکڑی تبدیل کرکے اچھی معیاری لکڑی کا فرش اپنی نگرانی میں ایکسیئن تیار کرائے۔ ورنہ تم جانتے ہو۔۔۔" ٹھیکیدار کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن ایکسیئن نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ 2 دن میں کمپلیکس کا سارا فرش نئی معیاری لکڑی سے تبدیل ہو چکا تھا۔ ایماندار افسر کے کہنے کا یہی فرق ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرغی کے گوشت کی قیمت میں بڑا اضافہ
جی ٹی روڈ پر درخت لگانے کی مہم
جی ٹی روڈ کے گرد درخت لگانے کی مہم یادگاری تھی۔ کمشنر نے این ایچ اے سے مل کر گوجرانوالہ سے وزیرآباد کے درمیان گرینڈ ٹرنک روڈ کے "میڈیم" اور کناروں سے 15 فٹ دور درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا۔ یہ خود میں ایک زبردست کوشش تھی۔ ہزاروں درخت لگوائے گئے۔ درخت مہیا کرنے اور لگانے کی ذمہ داری صوبائی محکموں کے پاس تھی جبکہ حفاظت کے لئے این ایچ اے مگر افسوس ہماری بہت مخلصانہ کوشش کے باوجود یہ مہم ناکام ہی رہی کہ لوگ ان درختوں کو اتار کر لے گئے اور بہت سے درخت مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے سرے سے مرجھا ہی گئے تھے۔
این ایچ اے کی طرف سے ان کے ریجنل منیجر مرتضیٰ علی خاں قندھاری صاحب کا بھرپور تعاون اور مدد ہمیں حاصل تھی۔ البتہ گوجرانوالہ شہر میں لگے کھجور کے پیڑ سکھر سے خطیر رقم خرچ کرکے منگوائے گئے تھے۔ کھجور کے بچے یہ چند پیڑ آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔ ان درختوں کو لگانے میں خالد بٹ ایکسیئن پبلک ہیلتھ کا بڑا رول تھا۔ یہ وہی خالد بٹ تھے جو میرے ساتھ کھاریاں ایس ڈی او پبلک ہیلتھ بھی رہے۔
بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کا غیر معیاری کام
ایسا ہی ایک غیر معیاری کام خود کمشنر کے دفتر میں بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ نے کیا۔ کمشنر کے ریٹائرنگ روم میں لکڑی کی الماری دیمک کی وجہ سے خراب ہو گئی تو نئی بنائی گئی۔ ٹھیکیدار نے غیر معیاری کام کیا۔ اس بار ساجد ایس ای بلڈنگ کو شرمندگی کے علاوہ کمشنر کے طنزیہ فقرے بھی برداشت کرنے پڑے تھے۔ اپنا اپنا کمپرومائز تھا۔ دولت اور وہ بھی غیر قانونی ذرائع سے جمع کرنے کی شاید ہمیں لت پڑ گئی ہے کہ ہم اس کے نتائج کی پرواہ ہی نہیں کرتے یا شاید ہم "عزت" نامی لفظ کو ہی زندگی سے نکال چکے ہیں یا اس لفظ سے سمجھوتا کر چکے ہیں۔ یہاں میں فرحت ایس ای ہائی ویز کی بات ضرور کرنا چاہوں گا۔ وہ اپنی رائے دینے میں دبنگ تھے اور کبھی بھی عزت پر سمجھوتے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ بعد میں وہ چیف انجینئر ویسٹ ریٹائیر ہوئے۔ اچھے انسان تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








