ایران میں ایسا صدر چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے، ٹرمپ
ٹرمپ کی ایران پر بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں ایسا صدر چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شیرشاہ سوری کے بیٹے کی تعمیر کردہ 474 سال پرانی باولی کو بحالی کے بعد سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا
امریکی فوجیوں کی میتیں وطن واپس
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے شروع میں کویتی ایئربیس پر حملے میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی میتیں امریکا پہنچا دی گئیں۔ ہلاک فوجیوں کی یاد میں ہونے والی تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آوے کا آوہ ہی بگڑ چکا تھا، جسے کام آتا تھا وہ بھی اور جسے نہیں آتا تھا سبھی برابر ہو چکے تھے،” جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والے معاملہ میں سب کچھ برباد ہو گیا۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کی عدم خواہش
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے یا سیٹلمنٹ کی تلاش میں نہیں، میں نہیں چاہتا کہ کرد فورسز ایران میں داخل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں 16 جنوری تک توسیع
برطانیہ کی فوجی موجودگی کا ذکر
امریکی صدر نے کہا کہ برطانیہ اب مشرق وسطیٰ میں 2 طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے، اب ہمیں برطانیہ کی ضرورت نہیں لیکن ہم یہ بات یاد رکھیں گے۔ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔
روس اور ایران کے تعلقات
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ روس کی جانب سے ایران کی مدد کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ صحافی کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ سکول پر حملہ ایران نے کیا تھا، تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔








