خواتین کو انصاف کی رسائی میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے: چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس پاکستان کا خواتین کے عالمی دن پر پیغام
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین قومی ترقی اور استحکام کا بنیادی ستون ہیں۔ آئین پاکستان خواتین کو قانون کے سامنے مکمل مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خود کو شاعرانہ طرز فکر میں جکڑا پایا، آنکھیں حسین و جمیل خاکوں سے مستفیض ہونے لگیں، دل کبھی شاداں و فرحاں کبھی تنہائی کے گھپ اندھیروں میں گم
خواتین کے حقوق کی حفاظت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق خواتین کے عالمی دن پر چیف جسٹس نے اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے۔ تاہم، خواتین کو انصاف تک رسائی میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے، خاص طور پر دیہی اور محروم طبقات کی خواتین کے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے پرانے گھر کی فروخت پر اب ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں دینا پڑے گا؟
صنف اور عدلیہ
جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ عدلیہ صنفی حساس انصاف کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے عدالتی اصلاحات کا نیا ایجنڈا تیار کیا ہے۔ 2026-27 میں صنفی حساس انصاف عدالتی اصلاحات کا مرکزی حصہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بھارت کے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سے پاکستان کو کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟
عورتوں کے سہولت مراکز
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں خواتین سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے اور خواتین کیلئے مفت قانونی معاونت اور ہیلپ لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خاندانی تنازعات کا حل
چیف جسٹس نے خاندانی تنازعات کے حل کیلئے مصالحتی نظام کو مضبوط بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ایک منصفانہ معاشرہ خواتین کو وقار اور مساوات دینے سے بنتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کی اصل طاقت کمزور طبقات کے تحفظ میں ہے۔








