وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی سادگی اور بچت کے لائحہ عمل کی ہدایت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)گزشتہ روز وزیراعظم نے ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے منعقد جائزہ اجلاس میں 48گھنٹوں کے اندر سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بارہا حکومتی سطح پر سادگی اور کفایت شعاری اپنانے کا اعلان کر چکے ہیں مگر عملی طور پر اس ضمن میں کوئی نمایاں پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں شفافیت میں اضافہ، کرپشن کم، معیشت ترقی کر رہی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل
سرکاری اخراجات کا جائزہ
سرکاری اخراجات کا ایک بڑا حصہ صرف سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر صرف ہورہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب میں تقریباً 30 ہزار سرکاری گاڑیاں سالانہ 20 ارب روپے مالیت کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔ اسی طرح سندھ میں 20 ہزار گاڑیاں سالانہ 13 ارب روپے‘ بلوچستان میں آٹھ ہزار گاڑیاں چار ارب روپے جبکہ وفاقی حکومت کے زیراستعمال 12 سے 15 ہزار گاڑیاں سالانہ تقریباً نو ارب روپے کا پٹرول خرچ کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ریلوے زمین پر قبضہ روکنے والا کوئی ہے یا نہیں؟ آئینی عدالت کے ریمارکس، ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضہ کی رپورٹ طلب کرلی
وفاقی اور صوبائی اخراجات کا اثر
اس وقت وفاق اور صوبوں کے مجموعی اخراجات کا حجم ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 22 فیصد کے برابر ہے‘ جو ایک ترقی پذیر اور مالی مشکلات کا شکار ملک کیلئے خاصا بڑا بوجھ ہے۔ لہٰذا وزیراعظم کی جانب سے سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کو محض رسمی اقدام کے بجائے ایک سنجیدہ اصلاحی عمل کا آغاز بنایا جانا چاہیے۔
حکومتی اقدامات کی ضرورت
اگر حکومت واقعی قومی وسائل کے تحفظ اور عوامی ریلیف کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اخراجات میں کمی کرکے عملی مثال قائم کرنا ہوگی۔ یہ طرزِ عمل عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی بہتری کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔








