سچائی کو ہرایا نہیں جا سکتا، سیلاب ہر سال آتا ہے، تباہی مچاتا انسان بھی بہا لے جاتا ہے۔ ہم روتے ہیں امداد مانگنے لگ جاتے ہیں لیکن منصوبہ بندی نہیں کرتے
نئی جیل کا معائنہ
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 461
حافظ آباد میں تعمیر ہونے والی نئی جیل کے معائنہ کے لئے گئے تو اس تعمیر دیکھ کر سبھی حیران رہ گئے۔ عمارت کے مختلف سیکشنز کی تعمیر بیک وقت شروع تھی۔ کسی حصہ کا بھی کام مکمل نہ تھا۔ کوئی عمارت چھت تک بنی تھی تو کوئی دروازوں تک کہ اُس سال کا بجٹ ختم ہو گیا۔ کمشنر نے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو ایک لمبا مگر قابل عمل لیکچر دیا۔ سبھی عمارات بیک وقت شروع کرنے سے بہتر تھا کہ وہی شروع کی جاتیں جتنی اس بجٹ میں مکمل ہو سکتیں۔ ادھڑی عمارتیں وقت اور انسانی عقل کا ماتم کرتی ہیں۔ یہیں 2014ء کے سیلاب میں ایک عمارت گر گئی۔ چیف منسٹر پنجاب نے انکوائری کا حکم دیا۔ کمشنر تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ کمیٹی کے دو دوسرے اراکین کی رائے کے برعکس کمشنر کا نقطہ نظر ان سے مختلف تھا۔ مجھے کہنے لگے؛ "شہزاد! میں نے انکوائری میں اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ چیف منسٹر نے مجھے بلایا ہے۔" دو تین روز بعد مجھے ملے تو میں نے پوچھا؛ "سر! آپ کے اختلافی نوٹ اور سی ایم کی ملاقات کا کیا بنا؟" کہنے لگے؛ "سی ایم نے میرے نقطہ نظر سے ایگری کیا۔ سچائی اور ایمانداری کو ہرایا نہیں جا سکتا۔"
یہ بھی پڑھیں: وہاڑی بس اور کار میں ٹکر، 6 افراد جاں بحق
سیلاب، سیالکوٹ اور واٹر پمپس
2014ء کے سیلاب کے دوران نالہ ڈیک اپنے پورے جوش اور جولانی کے ساتھ کناروں سے اچھلا بہہ رہا تھا۔ سیالکوٹ شہر کی سڑکیں تین تین فٹ پانی میں ڈوبی تھیں اور ساری انتظامیہ سڑک سے بہتے پانی کو بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔ مزاح کی بات یہ تھی کہ "واٹر ڈسپوزل پمپس" پانی سڑک کے ایک کنارے سے اٹھا کر دوسرے کنارے پر پانی ہی میں پھینک رہے تھے۔ ہم کئی گھنٹے یہ تماشا دیکھتے رہے بالکل ویسے ہی جیسے کبوتر خطرے کو دیکھ کر آنکھیں بند کرکے سمجھتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا۔ ہم بھی واٹر پمپس چلا کر وزیر اعلیٰ کو خوش کرتے رہے اور عقل کا ماتم بھی۔ کمشنر کہنے لگے؛ "شہزاد! اگر اس شہر کا مئیر ہوتا تو وہ جانتا اور یہ سیلاب خود ہی لوگوں کا سامنا کرتا اور انہیں جواب دہ ہوتا۔ ہم تو صرف صاحب کو خوش کرنے میں لگے ہیں کہ میری انتظامیہ سیالکوٹ کے سیلابی پانی میں کھڑی ہے جبکہ وہ کسی اور ضلع کے سیلابی پانی میں کھڑا عوام کو بیوقوف بنا رہا ہوگا۔"
ذمہ داری اور منصوبہ بندی
ہم بھی کمال لوگ ہیں۔ کسی بھی منصوبہ بندی پر یقین نہیں رکھتے۔ سیلاب ہر سال آتا ہے، تباہی مچاتا، نقصان پہنچاتا، کھیت اجاڑتا ہے۔ انسان بھی بہا لے جاتا ہے۔ ہم روتے ہیں، دوسروں سے امداد مانگنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے، نہ ہی عوام کی تربیت کرتے ہیں کہ سیلاب کے لئے انہیں خود کو کیسے تیار رکھنا ہے تاکہ سیلابی پانی سے نقصان کم سے کم ہو۔ باقی دنیا میں بھی ایسی آفات آتی ہیں لیکن وہاں نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ذمہ داری کا احساس کرنے والی وہ زندہ قومیں ہیں اور ہم ان خوبیوں سے مبرا ہیں شاید۔ ہم دوسروں کو مشکل میں گھرا دیکھ کر ان تک پہنچتے ہیں، اخبار کی خبر بنواتے ہیں، ذاتی خودنمائی کرکے ایسی ہی مشق کسی اور جگہ کرنے چلے جاتے ہیں۔ سیلاب میں گھرے بے حال لوگوں کی امداد کے لئے یو این او کی سفیر "انگیلا جولی" آتی ہے تو ہم بیوی بچوں کو اس سے ملوانے کے لئے سرکاری جہاز سرکاری خرچے پر بھیجتے ہیں۔ وہ سفیر اس بات کا نہ صرف برا مناتی ہے بلکہ دنیا کو بھی بتاتی ہے "یہ تماشائی لوگ ہیں جو اتنی بڑی آفت میں بھی غیر سنجیدگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔" اب تو ایسی آفات میں غیروں نے ہمیں امداد دینا ہی چھوڑ دی ہے۔ ہم نہ مظلوم کی آہ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ان کو ملنے والی امداد ہڑپ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی ہمارا وطیرہ ہے۔ بس "جس تنلاگے وہی تن جانے۔"
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








